برصغیر کی پوری تاریخ میں 1947ء کا بٹوارہ محض سیاسی یا جغرافیائی حادثہ نہیں بلکہ انسانی المیے کی انتہائی خوفناک داستان ہے۔ اس المناک واقعہ نے اردو افسانے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا—جہاں کرداروں کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، جلا وطنی، رشتوں کی بے معنویت، انسانی نفسیات کی تاریکی اور انسان کے اندر کے وحشی پن اور معصومیت فن کا مرکزی محور بن گئے۔ تقسیم کے فوراً بعد افسانہ نگاروں نے اس حادثۂ عظیم کو صرف بے رحم لہوچشم نظروں سے نہیں دیکھا بلکہ انسان کی تہہ در تہہ شکستگی اور نئے وجود کی تلاش کو بھی تخلیقی سطح پر برتا۔ یوں اردو افسانہ ایک ایسی حساس اور گہری روایت کی جانب بڑھا جس میں تاریخ کی خاکستر سے انسانی روح کی کراہ اور اس کی بقا کی خواہش جھلکتی ہے۔ سعادت حسن منٹو تقسیم کے المیے کے سب سے توانا اور بے رحم مؤرخ نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانے ’’ٹو باٹہ‘‘، ’’کھول دو‘‘، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘، ’’سیاہ حاشیے‘‘ اور ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں بٹوارے کی جنونی نفسیات، مذہبی تشدد، نسلی نفرت، عورت کی پامالی، اور انسان کے ذہنی انتشار کی ہولناک تصویریں ملتی ہیں۔ منٹو نے واقعات کو جذبات کی چادر میں لپیٹنے کے بجائے ننگی حقیقت کے ساتھ ...
علم الانسان ما لم یعلم