نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مرثیہ کا فن اور آغاز و ارتقاء پر مفصل روشنی ڈالیے

مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو "رثا" سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی مرنے والے کی تعریف کرنا یا اس کی خوبیوں کا بیان کرتے ہوئے اظہارِ غم پیش کرنا ہے ۔ عربی میں رثا ایک وسیع صنفِ شاعری ہے جو کسی بھی مرنے والے پر لکھی جاتی ہے ۔ تاہم، اصطلاحاً اردو مرثیہ نے ایک مخصوص محدود دائرہ اختیار کر لیا ہے۔ اردو ادب میں مرثیہ سے مراد وہ صنفِ ادب ہے جس میں خاص طور پر واقعاتِ کربلا، حضرت امام حسینؑ اور اُن کے خاندان کی شہادت و مصائب کو بیان کیا گیا ہو ۔ 

مشہور نقاد احتشام حسین کے نزدیک مرثیہ عموماً اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مذہبی یا قومی رہنما یا کسی محبوب شخصیت کی وفات پر اظہارِ غم کیا جائے اور اس کے صفات کو اس طرح بیان کیا جائے کہ سننے والے متاثر ہوں ۔ اس تعریف کے باوجود، اردو میں مرثیہ کی شناخت لازمی طور پر شہدائے کربلا کے مصائب سے جڑی رہی ہے۔ مرثیہ اپنے موضوع کے اعتبار سے مذہبی شاعری کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے، اور جس طرح نعت گوئی کا میدان مخصوص ہے۔اسی طرح مرثیہ کا میدان بھی مخصوص ہے ۔ اس صنف کا بنیادی مقصد واقعات کربلا کا تذکرہ اس انداز میں کرنا ہے کہ سننے والے پر رقت طاری ہو جائے اور وہ بے اختیار رونے لگے ۔ 

▪️مرثیہ کا فن اور اجزائے ترکیبی

مرثیہ ایک مسلسل نظم کی حیثیت رکھتا ہے جو کئی اصنافِ سخن مثلاً غزل، قطعہ، مثنوی، قصیدہ اور منظوم ڈرامے کے علاوہ داستان کی خصوصیات بھی اپنے اندر رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صنف اردو کے بیشتر اصناف کے محاسن کا جوہر پیش کرتی ہے ۔ مرثیے کا موضوع درحقیقت اعلیٰ کردار کی تعمیر اور تزکیہ نفس ہے اور امام حسینؑ کی شہادت، حق و باطل کے معرکے میں صداقت کی فتح کا استعارہ ہے ۔ 

اصولی طور پر، مرثیہ کسی بھی ہیئت میں کہا جا سکتا ہے ۔ ابتدائی دور میں قصیدے کی ہیئت بھی اختیار کی گئی تاکہ ممدوح (امام حسینؑ) کے تمام اوصاف و صفات کو واضح طور پر بیان کیا جا سکے ۔ تاہم میر انیس اور مرزا دبیر کے عہد میں فنی تکمیل کے بعد مرثیہ کے لیے عموماً مسدس (چھ مصرعوں کا بند) کی ہیئت کو اپنا لیا گیا ۔ مسدس نے مرثیہ کو وہ طوالت اور وسعت دی جس کے ذریعے کربلا کے واقعے کی تمام تفصیلات، بشمول مناظرِ قدرت، سراپا نگاری، رزمیہ بیانات، اور غم کے جذبات کو مکمل فنی لوازمات کے ساتھ پیش کیا جا سکا۔ مرثیہ کی کل آٹھ اجزائے ترکیبی ہیں: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین۔۔ اب آئیے! مرثیہ کی اجزائے ترکیبی پر تفصیل سے  گفتگو کریں۔
 
1)چہرہ:  مرثیہ کا ابتدائی حصہ جس میں شاعر دنیا کی بے ثباتی یا نعت و مناجات کے ذریعے سامعین کو جذباتی ماحول میں داخل کرتا ہے۔ میر انیس نے اس حصے میں منظر نگاری کو کمال بخشا، جیسا کہ ان کے مشہور مرثیے میں صبح کا منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر  کے رُخِ  بے حجاب نے  

2)سراپا: یہ حصہ ہیرو کی مدح سرائی اور خوبصورتی کے بیان سے تعلق رکھتا ہے، جس میں تغزل کے جوہر بھی دکھائے جاتے ہیں ۔ میر ضمیر نے سراپے کی تفصیلات (چہرہ، چال ڈھال، اعضا کا بیان) میں 'طرزِ نو' کی بنیاد ڈالی ۔ 

4&3)رخصت اور آمد: رخصت کا حصہ مکمل ڈرامائی اور جذباتی ہوتا ہے جبکہ آمد مکمل طور پر رزمیہ ہے۔ اس میں گھوڑے اور تلوار کی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ آمد کے زور و اثر کے لیے مرزا دبیر کا یہ شعر مشہور ہے:
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم  کا  بدن  زیر  کفن  کانپ  رہا  ہے  

5)رجز: عربوں میں رجز خوانی قدیم روایت تھی ۔ مرثیہ میں یہ حصہ افرادِ مرثیہ کے حسب نسب اور آباء و اجداد کے کارناموں کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ رجز، قصیدے میں ممدوح کی مدح سے مماثلت رکھتا ہے لیکن یہاں مبالغہ عقیدت و احترام اور منقبت بن جاتا ہے ۔ میر انیس کے رجز فصاحت کے حامل ہوتے ہیں۔
بڑھ کر  رجز   یہ  پڑھنے  لگے  قاسم جري 
عالم میں کون ہے جو کرے ہم سے ہمسری  

6)جنگ: یہ حصہ رزمیہ ایپک کے قریب ترین ہے ۔ اس میں گھوڑے، تلواربازی، نیزہ بازی اور میدان جنگ کی ہیبت ناک تصویر کشی کی جاتی ہے ۔ مرثیوں میں رزمیہ بیانات کو مقبولیت اس لیے ملی کہ یہ دور سیاسی زوال کا تھا، اور لوگ اسلاف کے کارناموں کو سن کر اپنی برتری کا احساس کرتےتھے۔ 

8&7)شہادت اور بین: شہادت کا حصہ رقت آمیز ترین ہوتا ہے جہاں امام حسینؑ کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے ۔ بین مرثیہ کا اختتامیہ حصہ ہے، جو ماتم اور آہ و زاری کا منظر پیش کرتا ہے ۔ 

▪️مرثیہ گوئی کا آغاز و ارتقا 

برصغیر پاک و ہند میں مرثیہ نگاری کی تاریخ کا آغاز پندرہویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے ۔ مرثیہ گوئی کو سب سے پہلے دکن میں فروغ ملا۔ بہمنی سلطنت اور اس کے بعد وجود میں آنے والی قطب شاہی اور عادل شاہی حکومتیں (جو شیعہ مسلک کو مانتی تھیں) مجالس عزاء کا اہتمام کرتی تھیں ۔ حاکم وقت کی سرپرستی نے دکھنی مرثیہ کے لیے سازگار فضا پیدا کی، جس کے سبب اس صنف کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ۔ دکن میں لکھے گئے ابتدائی ادب پر ایران کی ثقافتی چھاپ اور اسلوب کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ 

دکن میں مرثیہ کا نقطہ آغاز شاہ اشرف بیابانی کی مثنوی ’نوسر ہار‘ (1503ء) سے شروع ہوتا ہے جو واقعات کربلا سے متعلق پہلی مستند ادبی دستاویز ہے ۔ تاہم، اردو کے پہلے مرثیہ نگار کے تعین میں تحقیقی اشتباہ ابھی بھی موجود ہے۔ بعض محققین جیسے اظہر علی فاروقی اور مسیح الزماں نے اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر سلطان محمد قلی قطب شاہ کو پہلا مرثیہ گو شاعر قرار دیا کیونکہ ان کے دیوان میں باقاعدہ کچھ نوحے درج ہیں ۔ نصیرالدین ہاشمی نے پہلے وجہی کو اور بعد میں (چوتھے ایڈیشن میں) شیخ اشرف بیابانی کو پہلا مرثیہ نگار قرار دیا ۔ دکنی شعراء میں قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی، نصرتی، نوری، اور ہاشمی جیسے کئی نام ملتے ہیں جنہوں نے نوحہ گوئی اور مرثیہ کی روایت کو مستحکم کیا ۔دکنی عہد مرثیہ کی بنیاد کا دور تھا، لیکن اس میں ابھی صنف کو فنی پختگی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ قلی قطب شاہ اور ملا وجہی کے یہاں سے جو مرثیے کی ہیئت کی شروعات ہوئی تھی وہ ابھی نامکمل تھی ۔ دکن میں مرثیہ کی اہمیت بنیادی طور پر مذہبی عقیدت اور ثوابی پہلو تک محدود تھی ۔ مرثیہ کو ایک مکمل، ادبی، اور فنی ساخت دینے کی ضرورت شمالی ہند اور خاص طور پر لکھنؤ کے ادبی ماحول میں محسوس ہوئی، جہاں اظہار و بیان کے معیار سخت تھے ۔ 

دکن کے بعد مرثیہ گوئی کی روایت شمالی ہند پہنچی۔ اگرچہ میر اور سودا کے عہد تک مرثیہ کا رواج ہو چکا تھا ، لیکن شمالی ہند میں مرثیے نے طوالت اور ہیئت کے اعتبار سے خود کو مثنوی اور قصیدہ کے طرز سے الگ کرنا شروع کیا۔ اس دور میں، مرثیہ کی فنی ہیئت کی تشکیل میں میر مظفر حسین ضمیر کا نام بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میر ضمیر اور میر خلیق نے مل کر مرثیہ کے لیے مسدس کی ہیئت کو متعارف کرایا اور اس کو سنوارا ۔ میر ضمیر کو علامہ شبلی نعمانی سے لے کر آج تک بیشتر ناقدین نے موجودہ طرز کے مرثیوں کا موجد اور اجزائے ترکیبی کا معین کرنے والا قرار دیا ہے ۔ یہ وہ اہم تبدیلی تھی جس نے بعد میں مرثیہ کے عہدِ زریں کی راہ ہموار کی۔ 


▪️مرثیہ نگاری کا عہدِ زریں

مرثیہ نگاری کو حقیقی فنی عروج ریاست اودھ (لکھنؤ) میں حاصل ہوا ۔ لکھنؤ میں آصف الدولہ کے دور سے قبل ہی عزاداری اور مجالس کا سلسلہ قائم ہو چکا تھا ۔ لکھنؤ کے شعرا نے (میر انیس اور مرزا دبیر کی قیادت میں) مرثیے کی روایت پر جمود طاری نہیں ہونے دیا ۔ میر انیس اور مرزا دبیر نے ظاہری و معنوی اعتبار سے مرثیہ کے فن کو پائے تکمیل تک پہنچا دیا، جس کے بعد مسدس کی ہیئت مرثیہ کا مترادف بن گئی ۔ 

میر ببر علی انیس کو اردو کے سب سے بڑے مرثیہ نگار اور فصاحت و بلاغت کا امام مانا جاتا ہے ۔ میر انیس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے مرثیے کو مذہبی تقدس کے باوجود ادب کی چیز بنا دیا ۔ ان کی عظمت کا یہ اعتراف مولانا حالی نے 'مقدمہ شعر و شاعری' میں مرثیہ کو ترقی پذیر صنف قرار دے کر کیا، اور شبلی نعمانی نے اپنی تنقیدی کتاب کے لیے انیس کے کلام کو موضوع بحث بنایا ۔ 

مرزا سلامت علی دبیر اردو مرثیے کا دوسرا اہم ستون ہیں ۔ دبیر کا اسلوب میر انیس کے اسلوب قدرے مختلف ہے۔ دبیر اپنے مرثیوں میں قاری کو الفاظ کی شان و شوکت، علمی قابلیت، تشبیہات اور استعارات کی جدت و ندرت سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دبیر کے کلام میں قصیدے کا شان و شکوہ اور طمطراق پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کا کلام دل پر اثر کرنے کے بجائے دماغ کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دبیر کا عہد ناسخ کی حکمرانی کا زمانہ تھا جہاں صناعی، رعایت لفظی اور جدتِ مضامین کو فوقیت حاصل تھی ۔ دبیر خیال آفرینی اور مضمون بندی میں مہارت رکھتے تھے ۔ اس لیے 19ویں صدی عیسوی کو مرثیہ نگاری کا عہد زریں کہا جاتا ہے۔مرزا سلامت علی  دبیر اور میر ببر علی انیس نے صنف مرثیہ کو عروج بخشا۔


▪️مرثیہ نگاری میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی

نیر مسعود کے مطابق، مرثیے کا مطالعہ درحقیقت ہندوستانی تہذیب کا مطالعہ ہے ۔ دکن، دہلی، اور لکھنؤ کے مراثی ہر ایک اپنی مخصوص تہذیبی فضا کا انعکاس پیش کرتے ہیں۔ انیسویں صدی کا لکھنؤی ادبی مزاج (جس پر ناسخ کی شعریات کا غلبہ تھا) صناعی، پیچیدگی، اور قصیدے کے طمطراق کو پسند کرتا تھا ۔ اسی تہذیبی رجحان کی وجہ سے مرزا دبیر کے کلام میں علمی قابلیت اور قصیدے کا شان و شکوہ غالب آیا ۔ اس کے مقابلے میں، میر انیس نے فصاحت اور روزمرہ کی سادگی کو ترجیح دی، جو فطری جذبات اور تصویر کشی کے ذریعے زیادہ آفاقی تاثر پیدا کرتی تھی ۔ یوں، مرثیہ کے فن اور اجزائے ترکیبی کی تفصیلات دراصل اپنے عہد کی جمالیاتی اور سماجی اقدار کی ترجمانی کرتی ہیں۔ 

جدید مرثیے نے کربلا کے واقعے کو محض تاریخی داستان کے بجائے حق گوئی، مظلومیت اور استعماریت کے خلاف جہاد کا آفاقی استعارہ بنا دیا ۔ مرثیہ نگاری حق کی آواز اور ظالم کے آگے ڈٹ جانے کا استعارہ بن چکی ہے ۔ اسی وجہ سے یہ صنف صرف مذہبی طبقے میں ہی نہیں بلکہ عام لوگوں میں بھی مقبول ہوئی اور اعلیٰ قدروں کی ترویج کا ذریعہ بنی ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ مرثیہ صرف ایک فرقہ وارانہ صنف نہیں، بلکہ ہندوستان کی تہذیب و زبان کا مکمل سرمایہ اور اخلاقی و ادبی ورثہ ہے ۔

​کربلا کے آفاقی پیغام کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً پانچ سو مرثیہ نگاروں میں سو مرثیہ نگار غیر مسلم ہیں ۔ ان غیر مسلم شعراء نے بھی بڑی شان سے مرثیے لکھے۔ ان میں سیوا، کشن پرشاد شاد، الفت رائے الفت، کنورسین مضطر، اور راجہ بلوان سنگھ والی بنارس کے نام خاص طور قابل ذکر ہیں ۔ یہ امر مرثیہ کے انسانی اور اخلاقی پیغام کی آفاقیت اور ہندوستانی مشترکہ تہذیب کا واضح ثبوت ہے۔

​

ما حاصل:

​اردو مرثیہ عربی لفظ رثا سے ماخوذ ایک صنف ہے، جو اصطلاحاً واقعاتِ کربلا اور شہدائے کربلا کے مصائب کے بیان کے لیے مختص ہو کر اردو ادب کی ایک منفرد اور غیر تقلیدی صنف بن گئی ۔ اس کا ارتقائی سفر دکن میں شاہ اشرف بیابانی کی 'نوسر ہار' سے شروع ہوا جسے قطب شاہی اور عادل شاہی حکومتوں کی سرپرستی حاصل رہی ۔

مرثیہ کا فنی عروج لکھنؤ میں ہوا، جہاں میر ضمیر اور میر خلیق نے اسے مسدس کی ہیئت اور اجزائے ترکیبی (چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت، بین) سے آراستہ و پیراستہ کیا ۔ یہ فنی ساخت اس صنف کو ایک مکمل رزمیہ اور ڈرامائی رنگ عطا کرتی ہے ۔

​عہدِ زریں میں میر انیس اور مرزا دبیر نے مرثیہ کو فن کی معراج پر پہنچایا۔ میر انیس فصاحت، سلاست، تصویر کشی اور روزمرہ کے برجستہ استعمال میں بے مثال تھے اور ان کے کلام کا اثر دل پر گہرا ہوتا تھا ۔ اس کے برعکس، مرزا دبیر مضمون آفرینی، علمی شان اور قصیدہ نما طمطراق میں منفرد تھے ۔ انیس نے مرثیے کو ادب کی بلند سطح پر پہنچایا، جس کا اعتراف مولانا حالی اور شبلی نعمانی نے کیا ۔

کئی ہندو شاعروں نے بھی بڑی عقیدت سے مرثیہ لکھا ہے جو اس بات کی دلیل ہے مرثیہ ایک مذہبی صنف نہ ہو کر خالص ادبی صنف ہے اور اس میں ہندوستانی مشترکہ تہذیب کی عکاسی بھی موجود ہے ​آج یہ صنف صرف مذہبی عقیدت کا ہی نہیں، بلکہ انسانی عظمت، حق گوئی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ترویج کا ذریعہ بھی ہے ۔ غیر مسلم شعرا کی شمولیت اس صنف کے آفاقی پیغام کی بہترین مثال ہے ۔ مرثیہ مجموعی طور پر برصغیر کی تہذیبی اور ادبی وراثت کا ایک مضبوط اور زندہ حصہ ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...