پریم چند کا شمار برِّصغیر کے اُن ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو فقط تفریح یا جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی زندگی کے مسائل، سماجی شعور، اخلاقی اقدیروں اور حقیقتِ حال کے بیان کی مضبوط بنیاد بنایا۔ اُن کا اصل نام دھنپت رائے تھا اور وہ 31 جولائی 1880 کو بنارس کے قریب لامہی نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ گھریلو ماحول روایتی ہندو پس منظر رکھتا تھا مگر بچپن ہی سے اُن کی طبیعت میں فکری سنجیدگی، مشاہداتی قوت اور عملی حقیقتوں کو سمجھنے کا رجحان پایا جاتا تھا۔ تعلیم کا آغاز مقامی مکتب سے ہوا اور آگے چل کر انہوں نے انگریزی اور فارسی زبان پر بھی دسترس حاصل کی۔ ابتدا میں وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے مگر مزاج میں آزادیِ فکر، خودداری اور انسانی مساوات کے احساس نے ہمیشہ انہیں ایک مخصوص ذہنی کشمکش میں مبتلا رکھا۔
پریم چند کی ازدواجی زندگی بھی اُن کی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوئی۔ پہلی شادی کم عمری میں خاندان کے دباؤ پر ہوئی مگر یہ رشتہ کامیاب نہ رہا۔ بعد میں انہوں نے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون، شوارانی دیوی سے شادی کی جس نے نہ صرف اُن کے ادبی سفر میں ذہنی مدد فراہم کی بلکہ اُن کے تخلیقی اعتماد کو بھی بڑھایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان غلامی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، قوم سیاسی و معاشی استحصال کا شکار تھی، اور سماج چھوت چھات، ذات پات، جہالت، صدیوں پرانی غیر مساویانہ روایتوں اور سماجی تقسیم سے مجروح تھا۔ یہی حالات پریم چند کے دل میں ایک مسلسل ہلچل پیدا کرتے رہے اور ادب اُن کے لیے اصلاحِ معاشرہ اور بیداریِ شعور کا سب سے مضبوط ہتھیار بنا۔
پریم چند نے ابتدا میں اردو میں قلم اٹھایا اور ”نواب رائے“ کے نام سے کہانیاں اور ناول لکھے، لیکن ”سوزِ وطن“ کے شائع ہوتے ہی اُن کی تحریروں میں ملک گیری اور قومی جوش و جذبے کے رجحان کی وجہ سے برطانوی حکومت نے سخت کارروائی کی، نتیجتاً کتاب ضبط ہوئی اور تخلص بھی بدلنا پڑا۔ تب سے وہ "پریم چند" کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ اُن کے جذبے میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ اُن کی تحریریں اور زیادہ پختہ، حقیقت پسند اور عوامی زندگی کے قریب ہوتی گئیں۔ انہوں نے کسانوں کی بدحالی، مزدوروں کی محرومی، عورتوں کی بے بسی، سماجی ناانصافیاں، مذہبی منافرت اور طبقاتی استحصال جیسے موضوعات کو نہایت سادہ مگر نہایت مؤثر فنی انداز میں پیش کیا۔
پریم چند صرف افسانہ نگار یا ناول نگار نہیں تھے، وہ ایک ایسے سماجی رہنما بھی تھے جو قلم کو ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اُن کے ناول ”گئودان“، ”گوشۂ عافیت“، ”نرملا“، ”بازارِ حسن“ اور ”میدانِ عمل“ اور اُن کے شاہکار افسانوی مجموعے ”کفن“، ”پوس کی رات“، ”نمک کا داروغہ“، ”بوڑھی کاکی“، ”عیدگاہ“ اور ”ہدیہ“ اس بات کی روشن مثال ہیں کہ پریم چند نے انسانی جذبات اور طبقاتی مسائل کو کس سچے اور بے رحم انداز میں الفاظ کا جسم عطا کیا۔ ان کی زبان میں بناوٹ نہیں، سادگی ہے؛ جذبات میں شور نہیں، تہہ داری ہے؛ اور کرداروں میں مصنوعی پن نہیں بلکہ زندگی کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔
1920 کے بعد وہ زیادہ تر ہندی زبان میں لکھنے لگے، مگر ان کی فکری سرحدیں زبان کے تفرقے سے کہیں وسیع تھیں۔ وہ حقیقت نگاری کے سب سے بڑے عَلَم بردار ثابت ہوئے اور اُن کی تحریروں نے نہ صرف اردو اور ہندی افسانے کی نئی بنیاد ڈالی بلکہ ہندوستانی ادب میں انسانی المیے، سماجی اصلاح اور سماجی انصاف کی آواز کو نئی شناخت دی۔ اگرچہ زندگی بھر معاشی تنگی نے انہیں گھیرے رکھا مگر انہوں نے کبھی ادبی اصولوں، حق گوئی یا انسانی درد مندی کا سودا نہیں کیا۔
8 اکتوبر 1936 کو پریم چند اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اُن کا ادبی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ اُن کے کردار کسانوں کی تھکی ہوئی سانسوں، مزدوروں کے پسینے، بچوں کی معصوم آنکھوں اور عورتوں کی خاموش سسکیوں میں آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔ پریم چند کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک سچا ادیب صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ سماج کے بدن پر لگے زخموں کو محسوس کرتا ہے اور انہی زخموں کی ترجمانی کے لیے قلم کا قرض ادا کرتا ہے۔ ان کا نام آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ وہ ادب کو انسان کی آزادی اور باطنی نجات سے جوڑنے والے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ ادب کی دنیا میں پریم چند ہمیشہ ایک روشن مینار رہیں گے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں