اردو ادب میں تنقید کا فن ایک ایسا بیانیہ ہے جو محض تخلیق کی تحسین سے شروع ہو کر علمی، فلسفیانہ اور ساختیاتی تجزیوں تک محیط ہے۔ لغوی اعتبار سے تنقید کا مفہوم کھرے اور کھوٹے کی پرکھ، جانچ اور پرکھنا ہے۔ انسانی فطرت میں تنقیدی شعور ابتدا ہی سے موجود رہا ہے، کیونکہ ہر تخلیقی عمل کے پیچھے ایک شعوری یا لاشعوری انتخاب کارفرما ہوتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں تنقید کا باقاعدہ آغاز اگرچہ مولانا الطاف حسین حالی کے "مقدمہ شعر و شاعری" سے تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن اس کی جڑیں ان قدیم بیاضوں، تذکروں اور مشاعروں میں پیوست ہیں جو دہلی اور لکھنؤ کی تہذیبی زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اردو تنقید کے اس طویل اور ہمہ جہت سفر کا احاطہ کرتی ہے جو ذاتی بیاضوں کی ترتیب سے شروع ہو کر معاصر فلسفیانہ دبستانوں تک پہنچا ہے۔ ابتدائی نقوش: بیاض نویسی اور انتخابِ کلام کی روایت اردو میں تنقیدی عمل کا نقطہ آغاز ان ذاتی بیاضوں کو قرار دیا جا سکتا ہے جو شعرا اور سخن فہم حضرات اپنے ذوق کی تسکین کے لیے مرتب کرتے تھے۔ بیاض نویسی محض اشعار کی جمع آوری کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک اطلاقی تنقیدی عمل تھا۔ جب ایک بیاض نگ...
علم الانسان ما لم یعلم