انسان ہمیشہ سے دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈتا آیا ہے۔ اخبار، خط اور بات چیت کے بعد جب سائنس نے ترقی کی تو ریڈیو ایجاد ہوا۔ یہ ایک ایسا ذریعہ تھا جس نے آواز کو دور دور تک پہنچایا اور دنیا کو ایک طرح سے "گلوبل ولیج" بنا دیا۔ ریڈیو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس نے لوگوں کو پڑھانے، معلومات دینے اور سماج کو جوڑنے کا کام بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو کا سفر بہت خاص رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم ریڈیو کے ابتدائی دور سے لے کر آج کے ڈیجیٹل زمانے تک کے سفر اور اس کے مستقبل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
ابتدائی دور (1920 – 1947)
ہندوستان میں ریڈیو کا آغاز 1920 کی دہائی میں چند کلبوں نے کیا۔ 1923 میں بمبئی میں پہلا ریڈیو کلب بنا جس کے بعد کلکتہ اور مدراس میں بھی کلب شروع ہوئے۔ لیکن یہ کلب زیادہ دن نہیں چل سکے کیونکہ ان کے پاس پیسوں کی کمی تھی۔اس کے بعد 1926 میں ایک کمپنی انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی (IBC) بنی جس نے ممبئی اور کلکتہ میں ریڈیو اسٹیشن چلائے۔ 23 جولائی 1927 کو پہلی بار باقاعدہ ریڈیو نشریات شروع ہوئیں، اور اسی دن کو آج بھی نیشنل براڈکاسٹنگ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کمپنی بھی نقصان میں گئی اور 1930 میں بند ہوگئی۔اسی وقت حکومت نے ریڈیو کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا اور 1930 میں انڈین اسٹیٹ براڈکاسٹنگ سروس شروع کی۔ پھر 1936 میں اس کا نام بدل کر آل انڈیا ریڈیو (AIR) رکھا گیا۔ انگریزوں نے ریڈیو کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ پروپیگنڈا اور سیاست کے لیے بھی استعمال کیا۔ مثال کے طور پر دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے پشتو زبان میں نشریات شروع کی گئیں۔
آزادی کے بعد ریڈیو کا کردار
1947 میں آزادی کے وقت ہندوستان کے پاس صرف 6 ریڈیو اسٹیشن بچے کیونکہ تین ریڈیو اسٹیشن--لاہور، پشاور اور ڈھاکہ پاکستان میں چلے گئے تھے۔ آزادی کے بعد ریڈیو کو ایک نیا مقصد ملا: لوگوں کو جوڑنا اور قوم کی تعمیر کرنا۔ 1956 میں رابندر ناتھ ٹیگور نے آل انڈیا ریڈیو کے لیے "آکاشوانی" کا نام رکھنے کی صلاح دی ہندوستانی سرکاری نے اس نام کو باضابطہ طور پر اپنایا۔آزادی کے بعد ریڈیو نے صرف خبریں ہی نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور کسانوں کو معلومات دینے کا بھی کام کیا۔ اسی دور میں پنڈت نہرو کے مشہور خطاب اور دیگر قومی پیغامات ریڈیو کے ذریعے عوام تک پہنچے۔ بعد میں 1957 میں وودھ بھارتی سروس شروع ہوئی، جس میں فلمی گانے چلائے جانے لگے۔ یہ پروگرام بہت مقبول ہوا اور ریڈیو کو گھر گھر پہنچا دیا۔
پروگرام اور کلچرل اثرات
ریڈیو نے لوگوں کو صرف خبریں نہیں دیں بلکہ ان کی ثقافت کو بھی مضبوط کیا۔ جب ٹی وی نہیں تھا تو ریڈیو ڈرامے لوگوں کے وقت گزاری کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔ سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر جیسے ادیبوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھے۔اسی طرح ریڈیو نے کلاسیکل موسیقی کو عام آدمی تک پہنچایا اور بڑے گلوکاروں اور فنکاروں کو موقع دیا۔ عورتوں، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے بھی الگ الگ پروگرام بنائے گئے۔
ایف ایم ریڈیو اور نجی چینلز
پہلے ریڈیو AM پر چلتا تھا جس کی آواز صاف نہی آتی تھی۔ 1977 میں پہلی بار مدراس (چنئی) سے ایف ایم شروع ہوا۔ اس سے آواز بہت صاف ہو گئی۔1993 میں پہلی بار نجی کمپنیوں کو ریڈیو چلانے کا موقع ملا۔ 2001 میں ریڈیو سٹی بنگلور سے شروع ہوا اور اس کے بعد ریڈیو مرچی، ریڈ ایف ایم جیسے چینلز آئے۔ یہ چینلز فلمی گانے، ہلکی پھلکی باتیں اور نئے اسٹائل کے پروگراموں سے بہت مقبول ہوئے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔
کمیونٹی ریڈیو
2002 میں حکومت نے اجازت دی کہ کالج اور این جی اوز بھی چھوٹے پیمانے پر کمیونٹی ریڈیو چلا سکیں۔ یہ ریڈیو مقامی زبان اور مقامی مسائل پر پروگرام کرتے ہیں، جیسے صحت، تعلیم یا کسانوں کے لیے مشورے۔ اب ایسے 500 سے زیادہ ریڈیو اسٹیشن ہیں جو سیدھے سیدھے گاؤں اور کمیونٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں ریڈیو
اب ریڈیو کا زمانہ ڈیجیٹل ہو رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو نے DRM (Digital Radio Mondiale) ٹیکنالوجی اپنائی ہے جس سے آواز زیادہ صاف آتی ہے اور ایک ہی فریکوئنسی پر کئی چینلز چل سکتے ہیں۔ لیکن ابھی یہ سسٹم عام نہیں ہوا کیونکہ اس کے ریسیور مہنگے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ، لوگ اب ریڈیو صرف ریسیور پر نہیں سنتے بلکہ موبائل ایپس، یوٹیوب اور پوڈ کاسٹ کے ذریعے بھی سنتے ہیں۔ ہندوستان میں پوڈ کاسٹ سننے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ریڈیو اب صرف ریڈیو نہیں رہا بلکہ ایک آڈیو پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
نتیجہ
ریڈیو نے ہندوستان میں ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ شروعات میں مالی مشکلات آئیں، پھر حکومت نے کنٹرول کیا، آزادی کے بعد یہ قوم کو جوڑنے کا ذریعہ بنا، پھر ایف ایم اور نجی ریڈیو آئے، اور اب کمیونٹی اور ڈیجیٹل ریڈیو بڑھ رہے ہیں۔آج کے دور میں بھی ریڈیو اپنی کم قیمت اور زیادہ رسائی کی وجہ سے سب سے آسان اور مقبول زریعہ ابلاغ ہے۔ خاص طور پر گاؤں اور چھوٹے شہروں میں یہ اب بھی لوگوں کا ساتھی ہے۔ مستقبل میں ریڈیو کا ماڈل روایتی اور ڈیجیٹل دونوں کو ملا کر چلے گا اور یہ ہمیشہ ایک زندہ اور کارآمد ذریعہ ابلاغ رہے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں