ہندی ادب کے عظیم افسانہ نگار پریم چند کا شاہکار ’’گودان‘‘ 1936 میں شائع ہوا اور اسے نہ صرف ہندی ناولوں کی تاریخ بلکہ برصغیر کے دیہی معاشرے کے مطالعے میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ’’گودان‘‘ محض ایک کہانی نہیں بلکہ کسان کی زندگی، اس کے دکھ، استحصال اور سماجی ناانصافیوں کا ایسا ادبی استعارہ ہے جو ایک پوری صدی کے انسانی، معاشی اور اخلاقی المیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں ہندوستان کی دیہی زندگی کا ایسا حقیقی نقشہ پیش کیا ہے جس میں غربت، طبقاتی تقسیم، جاگیردارانہ ظلم، مذہبی اور سماجی دھوکے، عورت کی بےبسی اور انسانی جذبات کی سچائی پورے حسن اور درد کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
ناول کا مرکزی کردار ’’ہوری‘‘ ایک سادہ، محنتی اور شرافت پسند کسان ہے جو زندگی بھر صرف ایک خواب لیے جیتا ہے — ایک گائے کا حصول۔ گائے کا حصول محض ایک جانور کا مل جانا نہیں بلکہ عزت، مذہبی وقار، سماجی حیثیت اور دیہاتی خوشحالی کی علامت ہے۔ لیکن حالات، بدعنوان معاشرتی ڈھانچے اور معاشی جبر ہوری کو کبھی اس خواب تک نہیں پہنچنے دیتے۔ زمین دار، پجاری، ساہوکار اور گاؤں کی سماجی پرتیں مل کر ایک ایسے نظام کی تشکیل کرتی ہیں جن میں کسان کی محنت ہمیشہ دوسروں کی آسائشوں کا ایندھن بن جاتی ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں نہ صرف کسان کی معاشی بدحالی دکھائی ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی دکھ بھی پوری شدت سے بیان کیا ہے — ہوری بار بار سمجھوتے کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے، مگر سماج کبھی اس کے برابری کے حق کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔
ناول میں دیہی عورتوں کی زندگی کی تلخی بھی بھرپور نمایاں ہے۔ دھانیا کی شخصیت مزاحمت، ضبط اور گھریلو بوجھ کی کڑوی گواہی ہے۔ اس کے برعکس سومری اور جھنویا کے کرداروں کے ذریعے پریم چند نے عورت کی سماجی بے بسی، اس کی عزتِ نفس اور اس کی جدوجہد کے مختلف رنگ دکھائے ہیں۔ ’’گودان‘‘ میں عورت محض حاشیے کی کردار نہیں بلکہ وہ انسانی رشتوں کے درد، قربانی اور استحصال کی مرکزی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ شہری ماحول اور دیہی معاشرے کا تقابل بھی ناول میں بڑی اہمیت رکھتا ہے — شہری طبقہ تعلیم یافتہ اور ترقی پسند نظر آتا ہے مگر اس کی اخلاقی بنیادیں بھی اتنی ہی کھوکھلی ہیں جتنی دیہاتی سماج کی معاشرتی قوتیں ظالم ہیں۔
پریم چند نے ’’گودان‘‘ میں نہایت حقیقت پسندی کے ساتھ یہ دکھایا کہ کسان کی زندگی ایک ایسی جدوجہد ہے جس کا انجام خوشحالی نہیں بلکہ مفلسی، قرض اور تھکن ہے۔ ہوری کی موت اپنی خواہش پوری کیے بغیر ہو جاتی ہے، مگر موت سے کچھ لمحے پہلے وہ گائے کے دودھ سے محروم بچے کو دیکھ کر دوبارہ قربانی دیتا ہے — یوں وہ شکست خوردہ نہیں بلکہ انسانیت کا فاتح بن کر سامنے آتا ہے۔ ناول کا یہی پہلو اسے جذباتی اور فکری دونوں سطحوں پر بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔
’’گودان‘‘ کی سب سے بڑی ادبی عظمت اس کی حقیقت نگاری، کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، طبقاتی شعور، دیہی سماج کی بھرپور جزئیات اور زبان کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ پریم چند نے ناول میں نہ خطابت کا سہارا لیا، نہ جذباتیت کا مصنوعی رنگ۔ انہوں نے زندگی کو اسی طرح پیش کیا جیسا وہ اصل میں ہے، اور یہی سچائی ’’گودان‘‘ کو ادبی صحیفہ بنا دیتی ہے۔ آج بھی ’’گودان‘‘ کسان کی جدو جہد، انسان کی وقعت اور معاشرتی نظام کی بے رحمی کے سوالات کے ساتھ زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف پریم چند کا سب سے بڑا کارنامہ بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے ادبی ورثے کا روشن ترین باب کہا جاتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں