نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اردو صحافت کے ضمن میں مراسلہ نگاری

اردو صحافت کے ارتقا اور فروغ میں مراسلہ نگاری نے نہایت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافت کا مقصد ہمیشہ سے صرف اطلاعات پہنچانا نہیں بلکہ معاشرے کی آواز کو فیصلہ ساز طبقات تک منتقل کرنا اور رائے عامہ کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں مراسلہ نگاری صحافت کا وہ ستون ہے جس نے عام شہری اور اداروں، حکومت اور عوام، اور مسائل اور ان کے حل کے درمیان رابطے کو مضبوط، مربوط اور ذمہ دارانہ انداز میں قائم رکھا۔ اردو صحافت کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخباری دنیا میں قارئین کے خطوط، شکایات، تجاویز، مشاہدات اور عوامی جذبات کو جگہ دینے کے لیے ’’مراسلہ نگاری‘‘ ایک باقاعدہ صنف کے طور پر پروان چڑھی اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئی۔ اردو صحافت کے ابتدائی دور میں اخبارات نے مراسلہ نگاری کے ذریعے عوام اور اداروں کے درمیان ایک فکری پل قائم کیا۔ اس زمانے میں جب رائے دہی اور اظہارِ خیال کے ذرائع محدود تھے، مراسلے ہی وہ واحد ذریعہ تھے جن کے ذریعے لوگ اپنی سوچ، مسائل اور تجربات اخبارات کو بھیجتے اور یوں صحافت عوامی احساسات کی توسیع بن جاتی۔ مراسلہ نگاری کے ذریعے حکومتوں کی بے اعتدا...

کالم نگاری کے اغراض و مقاصد

اخباری صحافت کی بے شمار اصناف میں کالم نگاری وہ صنف ہے جس نے سب سے زیادہ وسعتِ فکر، مشاہداتِ زندگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی کو اپنی آغوش میں سمیٹا ہے۔ کالم محض چند سو الفاظ کی تحریر نہیں بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی وہ فکری آواز ہے جو معاشرے کی بدلتی حرکیات، سیاسی و سماجی اتار چڑھاؤ اور انسانی قدروں کے زوال و ارتقا کو نہایت بیداری کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کالم جب صحافت سے مل کر تخلیق پاتا ہے تو وہ خیالات کا آئینہ بن کر سامنے آتا ہے—اور اس کے اندر مقصدیت، شعور اور قاری کی ذہنی تربیت کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی مقصد کالم نگاری کا رائے عامہ کی تشکیل ہے۔ ہر معاشرہ سیاسی تضادات، معاشی کشمکش اور سماجی مسائل سے گزرتا ہے۔ عوام ان مسائل کو محسوس تو کرتے ہیں مگر انہیں الفاظ دینے، تجزیاتی زاویہ فراہم کرنے، اور ان کے پس منظر کو منکشف کرنے کا کام کالم نگار سر انجام دیتا ہے۔ وہ واقعات کے تار و پود کو کھول کر سامنے رکھتا ہے، محرکات اور نتائج واضح کرتا ہے اور قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ رائے شعور کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ کالم نگاری کا دوسرا اہم مقصد اصل...

تقسیم ہند اور اردو افسانہ

برصغیر کی پوری تاریخ میں 1947ء کا بٹوارہ محض سیاسی یا جغرافیائی حادثہ نہیں بلکہ انسانی المیے کی انتہائی خوفناک داستان ہے۔ اس المناک واقعہ نے اردو افسانے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا—جہاں کرداروں کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، جلا وطنی، رشتوں کی بے معنویت، انسانی نفسیات کی تاریکی اور انسان کے اندر کے وحشی پن اور معصومیت فن کا مرکزی محور بن گئے۔ تقسیم کے فوراً بعد افسانہ نگاروں نے اس حادثۂ عظیم کو صرف بے رحم لہوچشم نظروں سے نہیں دیکھا بلکہ انسان کی تہہ در تہہ شکستگی اور نئے وجود کی تلاش کو بھی تخلیقی سطح پر برتا۔ یوں اردو افسانہ ایک ایسی حساس اور گہری روایت کی جانب بڑھا جس میں تاریخ کی خاکستر سے انسانی روح کی کراہ اور اس کی بقا کی خواہش جھلکتی ہے۔ سعادت حسن منٹو تقسیم کے المیے کے سب سے توانا اور بے رحم مؤرخ نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانے ’’ٹو باٹہ‘‘، ’’کھول دو‘‘، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘، ’’سیاہ حاشیے‘‘ اور ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں بٹوارے کی جنونی نفسیات، مذہبی تشدد، نسلی نفرت، عورت کی پامالی، اور انسان کے ذہنی انتشار کی ہولناک تصویریں ملتی ہیں۔ منٹو نے واقعات کو جذبات کی چادر میں لپیٹنے کے بجائے ننگی حقیقت کے ساتھ ...