انسانی تاریخ میں ’’تہذیب‘‘ اور ’’ثقافت‘‘ دو ایسے بنیادی اصطلاحات ہیں جو انسانی زندگی کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب ہم کسی قوم یا ملک کے ماضی اور حال پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کے رہن سہن، رسوم و رواج، زبان و ادب، فنون لطیفہ، علوم و فنون اور مذہبی و اخلاقی اقدار سے ہی اس کی تہذیب و ثقافت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ہندوستان اس حوالے سے دنیا کی ایک منفرد مثال ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، مذاہب اور زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ایسی ’’مشترکہ تہذیب‘‘ کی تشکیل کرتی رہی ہیں جو آج بھی اپنی رنگا رنگی اور وسعت کے سبب عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔ تہذیب دراصل انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی وہ ہمہ گیر صورت ہے جس میں اس کی فکری، جذباتی اور عملی جہتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اس کے دائرے میں معاشرتی ادارے، سیاسی ڈھانچے، تعلیمی نظام، فنونِ لطیفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی سب شامل ہیں اور ثقافت (Culture) انسان کے روزمرہ طرزِ حیات کا آئینہ ہے جس میں زبان و ادب، رسوم و رواج، لوک گیت و کہانیاں، مذہبی اقدار، لباس اور کھانے پینے کی عادات شامل ہوتی ...
علم الانسان ما لم یعلم