نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ہندوستانی مشترکہ تہذیب کیا ہے؟ اور اس کی نمایاں خصوصیات۔

انسانی تاریخ میں ’’تہذیب‘‘ اور ’’ثقافت‘‘ دو ایسے بنیادی اصطلاحات ہیں جو انسانی زندگی کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب ہم کسی قوم یا ملک کے ماضی اور حال پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کے رہن سہن، رسوم و رواج، زبان و ادب، فنون لطیفہ، علوم و فنون اور مذہبی و اخلاقی اقدار سے ہی اس کی تہذیب و ثقافت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ہندوستان اس حوالے سے دنیا کی ایک منفرد مثال ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، مذاہب اور زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ایسی ’’مشترکہ تہذیب‘‘ کی تشکیل کرتی رہی ہیں جو آج بھی اپنی رنگا رنگی اور وسعت کے سبب عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔ تہذیب دراصل انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی وہ ہمہ گیر صورت ہے جس میں اس کی فکری، جذباتی اور عملی جہتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اس کے دائرے میں معاشرتی ادارے، سیاسی ڈھانچے، تعلیمی نظام، فنونِ لطیفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی سب شامل ہیں اور ثقافت (Culture) انسان کے روزمرہ طرزِ حیات کا آئینہ ہے جس میں زبان و ادب، رسوم و رواج، لوک گیت و کہانیاں، مذہبی اقدار، لباس اور کھانے پینے کی عادات شامل ہوتی ...

غدر کے بعد سیاسی سماجی اور ثقافتی پس منظر

1857 کی بغاوت جسے پہلی جنگِ آزادی بھی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان کی جدید تاریخ کا ایک اہم حادثہ ہے۔ اگرچہ یہ بغاوت برطانوی اقتدار کو اکھاڑنے میں کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس کے نتائج نہایت موثر اور دیرپا ثابت ہوئے۔ اس تحریک نے ہندوستانی معاشرت، سیاست اور تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے اور نوآبادیاتی نظام کو ایک نئی صورت میں ڈھال دیا۔ یوں 1857 کے بعد کا دور محض ایک بغاوت کے کچلے جانے کا قصہ نہیں بلکہ نوآبادیاتی حکومت کے ایک نئے عہد اور ہندوستانی سماجی و ثقافتی زندگی کے نئے باب کا آغاز ہے۔ 🔹سیاسی اثرات 1.مغلیہ سلطنت کا خاتمہ 1857 کی بغاوت نے مغل سلطنت کو ہندوستان سے باضابطہ اکھاڑ کر پھینک دیا۔ اخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرجو اس تحریک کے علامتی سربراہ تھے، معزول ہوئے اور رنگون (برما) جلاوطن کر دیے گئے۔ دہلی، جو صدیوں سے ہند اسلامی تہذیب کی مرکز تھی اجڑ گئی۔ مغلوں کا خاتمہ دراصل ہندوستانی خودمختاری کے آخری نشان کا مٹ جانا اور برطانوی اقتدار کی غیر متزلزل بالادستی کا اعلان تھا۔ 2. برطانوی حکومت کی شروعات اس بغاوت کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ 1858 کے ایکٹ کے تحت ہندوستان ...

نیٹو کیا ہے؟ اور یہ تنظیم کب اور کیوں بنائی گئی۔

نیٹو (NATO) ایک سیاسی اور فوجی اتحاد ہے جو شمالی امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک کے مابین ایک مشترکہ سمجھوتا ہے۔ اس کا پورا نام شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (North Atlantic Treaty Organization) ہے۔ یہ ایک ایسا اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد اپنے رکن ممالک کی مشترکہ حفاظت کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے سیاسی اور فوجی ذرائع دونوں استعمال کیے جاتے ہیں۔ 📍قیام اور پسِ پردہ مقاصد نیٹو کا قیام 4 اپریل 1949 کو عمل میں آیا۔ اس کے قیام کے پیچھے کی وجوہات اور مقاصد کو سمجھنے کے لیے اس وقت کی عالمی صورتحال کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد، دنیا دو بڑے بلاکوں میں تقسیم ہو رہی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک تھے، اور دوسری طرف سوویت یونین اور اس کے زیرِ اثر مشرقی یورپ کے ممالک۔ اس صورتحال کو سرد جنگ (Cold War) کا نام دیا گیا۔ سوویت یونین تیزی سے مشرقی یورپ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا تھا، اور مغربی یورپ کے ممالک کو یہ خدشہ تھا کہ سوویت یونین کی توسیع پسندی ان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے، امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ کے 10 ممالک نے مل کر ایک معاہدہ کیا، ...

مدر ٹریسا: انسانیت کی مسیحا

مدر ٹریسا کا اصل نام ایگنس گونژا بوجاکھیو (Agnes Gonxha Bojaxhiu) تھا۔ وہ 26 اگست 1910 کو البانی نژاد ایک کیتھولک خاندان میں، سکوبے مقدونیہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نکولا بوجاکھیو ایک کامیاب تاجر تھے لیکن ان کی وفات کے بعد والدہ نے بچوں کی پرورش بڑی محنت اور مذہبی رجحان کے ساتھ کی۔ مدر ٹریسا نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے مذہب اور خدمتِ خلق میں خاص دلچسپی رکھتی تھیں۔ صرف 18 برس کی عمر میں وہ "آئرش لبریٹ آف لیورٹو" (Loretto Sisters) کے مشنری ادارے میں شامل ہوئیں اور آئرلینڈ کے راستے 1929 میں ہندوستان پہنچیں۔ انہوں نے کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں اپنی مذہبی تعلیم و تربیت مکمل کی اور بعد ازاں "سینٹ میری اسکول" میں پڑھانے لگیں۔ کلکتہ میں تدریس کے دوران وہ اکثر دیکھتی تھیں کہ ہزاروں لوگ غربت، بیماری اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ یہ مناظر ان کے دل کو بے چین کرتے۔ 1946 میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 1950 میں "Missionaries of Charity" کے نام سے ایک تنظیم ...

اداریہ نگاری کے اصول و ضوابط

اداریہ نگاری صحافت کی نہایت اہم اور باوقار صنف ہے۔ یہ کسی اخبار، رسالے یا ابلاغی ادارے کی اجتماعی رائے اور موقف کی نمائندگی کرتی ہے۔ عام خبروں کے برعکس، جو صرف واقعات و حقائق کی ترسیل پر مشتمل ہوتی ہیں، اداریہ ان حقائق کی تشریح، تجزیہ اور تعبیر کرتا ہے اور قاری کو کسی مسئلے کی گہرائی تک پہنچنے میں فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اداریہ نگاری کا اصل مقصد صرف اطلاع دینا نہیں بلکہ سوچ کو سمت دینا، عوامی شعور بیدار کرنا اور اصلاحِ معاشرہ میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔ اداریہ عموماً چار اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں: 1. تفسیری یا توضیحی اداریہ – جو کسی خبر یا واقعے کے پس منظر، اہمیت اور اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ 2. تنقیدی یا تجزیاتی اداریہ – جو کسی مسئلے کے مثبت و منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 3.استدلالی اداریہ – جو قاری کو کسی مخصوص رائے یا عمل کی طرف قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 4.تعریفی اداریہ – جو کسی مثبت کارنامے، اصلاحی قدم یا کامیاب منصوبے کی ستائش کرتے ہیں۔ اداریہ کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ بیک وقت تعلیم دینے اور رائے سازی کرنے کا کام کرتا ہے۔ ایک مؤثر اداریہ نہ صرف پیچیدہ سماجی و س...

ایڈولف ہٹلر: ایک متنازعہ شخصیت کا جائزہ

ایڈولف ہٹلر بیسویں صدی کی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس کا ذکر آتے ہی انسانی ذہن میں خوف، جنگ اور تباہی کے مناظر ابھر آتے ہیں۔ وہ ایک ایسا رہنما تھا جس نے نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم اس کی شخصیت کے پہلو نہ صرف سیاہ ہیں بلکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے جرمنی کو ایک خاص وقت تک ترقی کی طرف مائل کیا۔ ایک متوازن مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ ہٹلر کی زندگی اور کارناموں کو مثبت اور منفی دونوں زاویوں سے دیکھا جائے۔ ایڈولف ہٹلر 20 اپریل 1889 کو آسٹریا کے ایک چھوٹے شہر براؤناو ایم اِن میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک عام گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول میں حاصل کی، مگر وہ ایک کامیاب طالب علم نہ بن سکا۔ فنونِ لطیفہ میں دلچسپی کے باعث اس نے ویانا کی آرٹ اکیڈمی میں داخلہ لینے کی کوشش کی، لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تعلیم کے دوران ہی اس کے اندر سخت مزاجی اور نسلی برتری کے خیالات جنم لینے لگے، جو بعد میں اس کی شخصیت کا بنیادی حصہ بن گئے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ہٹلر نے ایک سپاہی کی حیثیت سے حصہ لیا اور اپنی خدمات کے صلے میں تمغے بھی حاصل کیے۔ جنگ کے بعد جرمنی شکست اور بد...

مہاتما گاندھی اور عدم تشدد کا نظریہ

موہن داس کرم چند گاندھی، جو تاریخ میں مہاتما گاندھی کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ ایک عہد ساز شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی، خیالات اور فلسفے سے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ان کی پیدائش 2 اکتوبر 1869 کو ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر پوربندر میں ایک مذہبی اور بااثر گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد، کرم چند گاندھی، پوربندر کے دیوان (چیف منسٹر) تھے اور ان کی والدہ پوتلی بائی، ایک نیک اور سچے مذہبی خیالات رکھنے والی خاتون تھیں۔ اسی ماحول نے گاندھی جی کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے، جہاں سچائی، سادگی اور روحانیت کو اہمیت دی جاتی تھی۔ گاندھی جی نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں ہی حاصل کی اور کم عمری میں ہی کستوربا سے ان کی شادی ہو گئی۔ 1888 میں، انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن کا سفر کیا۔ لندن میں قیام کے دوران انہیں ہندوستانی ثقافت اور روایتوں پر فخر محسوس ہوا۔ انہوں نے وہاں کی جدید زندگی کو اختیار کرنے کے بجائے اپنی سادگی اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو برقرار رکھا۔ 1891 میں بیرسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ ہندوستان واپس آ گئے۔ ہندوستان میں وکالت ...