مدر ٹریسا کا اصل نام ایگنس گونژا بوجاکھیو (Agnes Gonxha Bojaxhiu) تھا۔ وہ 26 اگست 1910 کو البانی نژاد ایک کیتھولک خاندان میں، سکوبے مقدونیہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نکولا بوجاکھیو ایک کامیاب تاجر تھے لیکن ان کی وفات کے بعد والدہ نے بچوں کی پرورش بڑی محنت اور مذہبی رجحان کے ساتھ کی۔
مدر ٹریسا نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے مذہب اور خدمتِ خلق میں خاص دلچسپی رکھتی تھیں۔ صرف 18 برس کی عمر میں وہ "آئرش لبریٹ آف لیورٹو" (Loretto Sisters) کے مشنری ادارے میں شامل ہوئیں اور آئرلینڈ کے راستے 1929 میں ہندوستان پہنچیں۔ انہوں نے کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں اپنی مذہبی تعلیم و تربیت مکمل کی اور بعد ازاں "سینٹ میری اسکول" میں پڑھانے لگیں۔
کلکتہ میں تدریس کے دوران وہ اکثر دیکھتی تھیں کہ ہزاروں لوگ غربت، بیماری اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ یہ مناظر ان کے دل کو بے چین کرتے۔ 1946 میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے 1950 میں "Missionaries of Charity" کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس ادارے کا مقصد غریبوں، یتیموں، بے سہارا عورتوں اور مریضوں کی خدمت کرنا تھا۔ مدر ٹریسا نے کوڑھ کے مریضوں کے لیے علیحدہ اسپتال قائم کیے، یتیم بچوں کے لیے گھر بنائے اور بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں کھولیں۔
ان کے کارنامے صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہے، بلکہ پوری دنیا میں پھیل گئے۔ ان کے ادارے کے ہزاروں اراکین آج بھی مختلف ممالک میں خدمتِ خلق میں مصروف ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ مذہب، نسل یا رنگ سے قطع نظر، انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔
مدر ٹریسا کی لازوال خدمات کو پوری دنیا نے سراہا۔ انہیں متعدد عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ سب سے بڑا اعزاز انہیں 1979 میں نوبل امن انعام کی صورت میں ملا۔ یہ انعام انہیں "غریبوں، بیماروں اور بے سہارا انسانوں کی خدمت اور امن و انسانیت کی فروغ" کے اعتراف میں دیا گیا۔
اس کے علاوہ انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھارت رتن (1980) بھی ملا۔
مدر ٹریسا نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار دی۔ 5 ستمبر 1997 کو کلکتہ انکی وفات ہوئی۔ ان کی تدفین ریاستی اعزاز کے ساتھ ہوئی اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں کیتھولک چرچ نے انہیں "Saint Teresa of Calcutta" کا لقب دیا۔
مدر ٹریسا کی زندگی خدمت، قربانی اور انسان دوستی کا آئینہ ہے۔ وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں۔ آج بھی ان کا نام آتے ہی خدمتِ خلق، محبت اور ایثار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں "مدر" یعنی ماں کہلانے کی مستحق تھیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں