انسانی تاریخ میں ’’تہذیب‘‘ اور ’’ثقافت‘‘ دو ایسے بنیادی اصطلاحات ہیں جو انسانی زندگی کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب ہم کسی قوم یا ملک کے ماضی اور حال پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کے رہن سہن، رسوم و رواج، زبان و ادب، فنون لطیفہ، علوم و فنون اور مذہبی و اخلاقی اقدار سے ہی اس کی تہذیب و ثقافت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ہندوستان اس حوالے سے دنیا کی ایک منفرد مثال ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، مذاہب اور زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ایسی ’’مشترکہ تہذیب‘‘ کی تشکیل کرتی رہی ہیں جو آج بھی اپنی رنگا رنگی اور وسعت کے سبب عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔
تہذیب دراصل انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی وہ ہمہ گیر صورت ہے جس میں اس کی فکری، جذباتی اور عملی جہتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اس کے دائرے میں معاشرتی ادارے، سیاسی ڈھانچے، تعلیمی نظام، فنونِ لطیفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی سب شامل ہیں اور ثقافت (Culture) انسان کے روزمرہ طرزِ حیات کا آئینہ ہے جس میں زبان و ادب، رسوم و رواج، لوک گیت و کہانیاں، مذہبی اقدار، لباس اور کھانے پینے کی عادات شامل ہوتی ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب ایک وسیع تر دائرہ ہے اور ثقافت اس کے اندر موجود محض ایک جز ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے تہذیب کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے:"ہندوستانی تہذیب کی سب سے بڑی خوبی اس کی جامعیت ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، قوموں اور زبانوں نے مل جل کر ایک ایسی مشترکہ فضا قائم کی ہے جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔"
جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں ثقافت کی تعریف یوں کی ہے:"ہندوستانی ثقافت صدیوں سے ایک ندی کی طرح بہتی رہی ہے، جس میں مختلف دھارائیں آ کر شامل ہوئیں اور سب نے مل کر ایک بڑی اور طاقتور تہذیب کی تشکیل کی۔"
🔹ہندوستانی مشترکہ تہذیب
ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صدیوں سے مختلف تہذیبیں اور قومیں آباد رہی ہیں۔ وادیٔ سندھ اور گنگا جمنا کی تہذیب سے لے کر بدھ مت، جین مت، ہندو مت اور اسلام کی آمد تک ہر دور میں یہاں نئے رنگ شامل ہوتے گئے۔ ترک، مغل اور انگریز بھی آئے اور انہوں نے اپنی روایات کو ہندوستانی فضا میں رچا بسا دیا۔ اس طویل تاریخی عمل نے ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جسے ہم ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ یا ’’مشترکہ ہندوستانی تہذیب‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ائیے اب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی مختلف پہلوؤں کو باریکی سے دیکھتے ہیں۔
1. مذہبی رواداری اور ہم آہنگی
ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ صدیوں سے جیتے آئے ہیں۔ ہندوؤں کے دیوالی اور ہولی کے تہوار ہوں یا مسلمانوں کی عیدین، عیسائیوں کا کرسمس ہو یا سکھوں کا بیساکھی، ان تقریبات میں مختلف مذاہب کے لوگ بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے ہیں۔ بنارس میں ہندو مسلمان مل کر گنگا آرتی میں شریک ہوتے ہیں تو اجمیر شریف کے عرس میں ہر مذہب کے لوگ دعا کے لیے آتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب کے اختلاف کے باوجود دلوں کی قربتیں برقرار ہیں۔
2. لسانی میل جول
ہندوستان میں بولی جانے والی زبانیں اس مشترکہ تہذیب کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ اردو زبان کی پیدائش فارسی، عربی اور ہندی کے امتزاج سے ہوئی، جو ہندو مسلم میل جول کا حسین مظہر ہے۔ اسی طرح بنگالی، پنجابی، اودھی اور مراٹھی میں فارسی اور سنسکرت دونوں کے اثرات ملتے ہیں۔
3. فن اور ادب میں امتزاج
مغل دور کی مصوری اور فنِ تعمیر نے ہندوستانی ثقافت کو ایک نئی شان بخشی۔ تاج محل، لال قلعہ اور قطب مینار آج بھی اس تہذیبی امتزاج کے شاہکار ہیں۔
موسیقی کے میدان میں بھی ہندو مسلم یکجہتی نمایاں ہے۔ تان سین، بیجو باورا اور امیر خسرو جیسے فنکاروں نے ہندوستانی موسیقی کو ایک نیا رخ دیا۔ قوالی اور بھجن کی محفلیں اس بات کی مثال ہیں کہ فنون نے مذہبی سرحدیں پار کر کے مشترکہ فضا پیدا کی۔
4. مشترکہ رہن سہن اور روزمرہ زندگی
ہندوستانی معاشرت میں لوگوں کا دکھ سکھ بانٹنا اس تہذیب کا روشن پہلو ہے۔ دیہات میں آج بھی ہندو مسلم ایک دوسرے کی شادی بیاہ میں شریک ہوتے ہیں۔ کھانوں میں بریانی، ہلیم، سموسہ اور جلیبی ایسے پکوان ہیں جو ہندو مسلم دونوں کے میل جول سے وجود میں آئے۔
5. تصوف اور بھکتی تحریک
بھکتی تحریک کے سنتوں اور صوفی بزرگوں نے ہندوستانی مشترکہ تہذیب کو نئی جہت دی۔ کبیر، بابا فرید، میرابائی اور حضرت نظام الدین اولیاء نے مذہبی تفریق کو کم کر کے انسانیت، محبت اور مساوات کا پیغام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ماننے والے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔
نتیجہ: ہندوستانی مشترکہ تہذیب ایک ایسی ندی ہے جس میں مختلف مذہبوں، زبانوں اور اقوام کے چشمے آ کر ملے اور ایک شاندار دھارا تشکیل دیا۔ یہ تہذیب کثرت میں وحدت کی بہترین مثال ہے، جہاں تنوع کے باوجود ایک ہم آہنگی اور یگانگت موجود ہے۔ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مشترکہ وراثت کو محفوظ رکھا جائے اور فرقہ واریت کے بجائے رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے، کیونکہ یہی ہندوستان کی اصل پہچان اور طاقت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں