ایڈولف ہٹلر بیسویں صدی کی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس کا ذکر آتے ہی انسانی ذہن میں خوف، جنگ اور تباہی کے مناظر ابھر آتے ہیں۔ وہ ایک ایسا رہنما تھا جس نے نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم اس کی شخصیت کے پہلو نہ صرف سیاہ ہیں بلکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے جرمنی کو ایک خاص وقت تک ترقی کی طرف مائل کیا۔ ایک متوازن مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ ہٹلر کی زندگی اور کارناموں کو مثبت اور منفی دونوں زاویوں سے دیکھا جائے۔
ایڈولف ہٹلر 20 اپریل 1889 کو آسٹریا کے ایک چھوٹے شہر براؤناو ایم اِن میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک عام گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول میں حاصل کی، مگر وہ ایک کامیاب طالب علم نہ بن سکا۔ فنونِ لطیفہ میں دلچسپی کے باعث اس نے ویانا کی آرٹ اکیڈمی میں داخلہ لینے کی کوشش کی، لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تعلیم کے دوران ہی اس کے اندر سخت مزاجی اور نسلی برتری کے خیالات جنم لینے لگے، جو بعد میں اس کی شخصیت کا بنیادی حصہ بن گئے۔
پہلی جنگِ عظیم میں ہٹلر نے ایک سپاہی کی حیثیت سے حصہ لیا اور اپنی خدمات کے صلے میں تمغے بھی حاصل کیے۔ جنگ کے بعد جرمنی شکست اور بدحالی کا شکار تھا۔ عوامی غصے، غربت اور معاشی بحران نے ہٹلر کو ایک موقع دیا۔ وہ جرمن نیشنل سوشلسٹ پارٹی (نازی پارٹی) سے وابستہ ہوا اور اپنی خطابت اور پروپیگنڈہ کی صلاحیت سے عوام کو متاثر کرنے لگا۔ بالآخر 1933 میں وہ جرمنی کا چانسلر بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک مطلق العنان حکمران کے طور پر ابھرا۔
ہٹلر کے مثبت پہلوؤں میں یہ بات اہم ہے کہ اس نے شکست خوردہ جرمنی میں عوام کو ایک نیا حوصلہ دیا۔ صنعتی پیداوار میں اضافہ کیا، بے روزگاری کو کم کیا اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیے، جیسے سڑکوں کا جال بچھانا۔ جرمن قوم کو اتحاد اور طاقت کا احساس دلایا۔ اس نے سائنس و ٹیکنالوجی پر بھی زور دیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ جرمنی دنیا کی طاقتور ترین ریاستوں میں شمار ہونے لگا۔
تاہم ہٹلر کے منفی پہلو کہیں زیادہ سنگین اور بھیانک تھے۔ اس نے یہودیوں اور دوسری قوموں کے خلاف شدید نفرت کو ہوا دی۔ ہولوکاسٹ کے نام سے مشہور ظلم و بربریت میں لاکھوں یہودیوں کو اذیت دے کر قتل کیا گیا۔ آزادیِ رائے اور جمہوریت کو کچل کر اس نے آمریت کو فروغ دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کی آگ بھڑکا کر نہ صرف کروڑوں انسانوں کی جانیں لی بلکہ دنیا کو شدید تباہی اور بربادی سے دوچار کر دیا۔ آخر کار 1945 میں جب جنگ ہارنے کا یقین ہوگیا تو اس نے برلن میں خودکشی کر لی۔
یوں ایڈولف ہٹلر کی شخصیت ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ وہ بیک وقت ایک پرعزم، جرات مند اور منظم رہنما بھی تھا، اور ایک ظالم، بے رحم اور انسان دشمن آمر بھی۔ اس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت میں اگر انصاف، رواداری اور انسانیت کا پہلو نظرانداز ہو جائے تو بڑی سے بڑی کامیابیاں بھی تاریخ میں ہمیشہ نفرت اور مذمت کا باعث بن جاتی ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں