موہن داس کرم چند گاندھی، جو تاریخ میں مہاتما گاندھی کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ ایک عہد ساز شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی، خیالات اور فلسفے سے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ان کی پیدائش 2 اکتوبر 1869 کو ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر پوربندر میں ایک مذہبی اور بااثر گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد، کرم چند گاندھی، پوربندر کے دیوان (چیف منسٹر) تھے اور ان کی والدہ پوتلی بائی، ایک نیک اور سچے مذہبی خیالات رکھنے والی خاتون تھیں۔ اسی ماحول نے گاندھی جی کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے، جہاں سچائی، سادگی اور روحانیت کو اہمیت دی جاتی تھی۔
گاندھی جی نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں ہی حاصل کی اور کم عمری میں ہی کستوربا سے ان کی شادی ہو گئی۔ 1888 میں، انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن کا سفر کیا۔ لندن میں قیام کے دوران انہیں ہندوستانی ثقافت اور روایتوں پر فخر محسوس ہوا۔ انہوں نے وہاں کی جدید زندگی کو اختیار کرنے کے بجائے اپنی سادگی اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو برقرار رکھا۔ 1891 میں بیرسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ ہندوستان واپس آ گئے۔ ہندوستان میں وکالت میں کامیابی نہ ملنے پر، وہ 1893 میں ایک ہندوستانی فرم کے قانونی مشیر کے طور پر جنوبی افریقہ چلے گئے۔
جنوبی افریقہ میں گاندھی جی کو جس نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، اس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک واقعہ جس میں انہیں پیٹرمارٹزبرگ ریلوے اسٹیشن پر صرف اس لیے ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے سے اتار دیا گیا کہ وہ ایک سیاہ فام شخص تھے۔اس واقعے نے انہیں نسل پرستی اور عدم مساوات کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا۔ اسی لمحے انہوں نے عزم کیا کہ وہ دنیا میں موجود ہر طرح کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
جنوبی افریقہ میں ہی انہوں نے اپنی جدوجہد کا سب سے بڑا ہتھیار "ستیہ گرہ" ایجاد کیا۔ ستیہ گرہ کا مطلب ہے "سچائی پر قائم رہنا" اور یہ عدم تشدد کے اصولوں پر مبنی ہے۔ گاندھی جی نے جنوبی افریقہ میں ہندوستانی برادری کے حقوق کے لیے بڑے پیمانے پر تحریکیں چلائیں، جن میں پرامن احتجاج، سول نافرمانی اور جیل بھرو تحریکیں شامل تھیں۔ یہ 21 سالہ جدوجہد ان کی زندگی کا ایک تربیتی دور ثابت ہوئی، جس نے انہیں ایک عام وکیل سے ایک عظیم سیاسی اور روحانی رہنما میں تبدیل کر دیا۔
ہندوستان واپسی اور آزادی کی جدوجہد
1915 میں گاندھی جی ہندوستان واپس آئے اور انہیں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی قیادت کرنے کے لیے بلایا گیا۔ یہاں آتے ہی انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور پورے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ہندوستان کی غربت، استحصال اور برطانوی راج کے ظلم کو قریب سے دیکھا۔ ان کی سادگی، کھادی پہننا، اور عام آدمی کی زبان میں بات کرنا انہیں عوام سے جوڑنے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے آزادی کی تحریک کو صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی اور اقتصادی بیداری کی تحریک بھی بنایا۔
گاندھی جی نے کئی بڑی تحریکوں کی قیادت کی جن میں سے کچھ اہم یہ ہیں:
عدم تعاون کی تحریک (1920-1922): اس تحریک کا مقصد برطانوی حکومت سے ہر سطح پر عدم تعاون کرنا تھا، جس میں سرکاری عہدوں، اسکولوں، عدالتوں اور برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ شامل تھا۔
نمک مارچ یا ڈانڈی مارچ (1930): برطانوی حکومت کے نمک پر غیر منصفانہ ٹیکس کے خلاف، گاندھی جی نے 240 میل کا ایک طویل پیدل سفر کیا۔ یہ مارچ، جسے "نمک ستیہ گرہ" بھی کہا جاتا ہے، آزادی کی تاریخ میں ایک اہم علامت بن گیا۔
ہندوستان چھوڑو تحریک (1942): دوسری جنگ عظیم کے دوران گاندھی جی نے یہ تحریک شروع کی، جس کا مقصد برطانوی حکومت کو فوری طور پر ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس تحریک کے دوران انہوں نے مشہور نعرہ "کرو یا مرو" دیا۔
مہاتما کا خطاب اور ان کا فلسفہ
گاندھی جی کو "مہاتما" کا لقب مشہور شاعر اور فلسفی رابندر ناتھ ٹیگور نے دیا تھا۔ اس سنسکرت لفظ کا مطلب ہے "عظیم روح" یا "عظیم نفس"۔ یہ خطاب ان کی غیر معمولی روحانی اور اخلاقی عظمت، سچائی، عدم تشدد، اور انسان دوستی کی وجہ سے دیا گیا۔ گاندھی جی کا فلسفہ صرف سیاسی نہیں تھا بلکہ اس میں عدم تشدد (اہنسا)، سچائی (ستیہ)، سادگی اور خود انحصاری شامل تھے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عدم تشدد اور سچائی سب سے طاقتور ہتھیار ہیں جو کسی بھی ظلم کے خلاف فتح حاصل کر سکتے ہیں۔
بالآخر، ان کی جدوجہد نے 15 اگست 1947 کو ہندوستان کو آزادی دلائی، لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کو تقسیم کا درد بھی سہنا پڑا۔ 30 جنوری 1948 کو ایک بنیاد پرست ہندو ناتھورام گوڈسے نے ان کا قتل کر دیا۔ ان کی موت ایک قومی سانحہ تھی، لیکن ان کے نظریات آج بھی دنیا بھر میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے تحریکوں کو متاثر کرتے ہیں۔ گاندھی جی نے یہ ثابت کیا کہ ایک عام آدمی بھی سچائی اور مضبوط ارادے سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں