پریم چند کی ناول نگاری اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے ادبی افق پر ایک ایسی توانا اور موثر آواز ہے جس نے برِّصغیر کے سماج، اس کے اقتصادی ڈھانچے، مذہبی اور طبقاتی تقسیم، عورت کی حالت، کسان اور مزدور کی مجبوری، اور انسان کے باطنی اور بیرونی تضادات کو نہایت سادگی، صداقت اور فنّی پختگی کے ساتھ پیش کیا۔ وہ ان ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ناول کو محض قصہ گوئی نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی شعور، اصلاحِ معاشرہ اور انسانی ہمدردی کا آلہ بنایا۔ ’’بازارِ حسن (سوداسادن)‘‘، ’’نرملا‘‘، ’’رنگ بھومی‘‘، ’’گَبَن‘‘، ’’کرْم بھومی‘‘ اور ’’گودان‘‘ جیسے ناول نہ صرف ادبی اعتبار سے اہم ہیں بلکہ ہندوستانی سماج کی دستاویزی تاریخ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پریم چند کی ناول نگاری کا دائرہ صرف دیہات یا شہر تک محدود نہیں، بلکہ وہ پورے ہندوستانی معاشرے کی دھڑکن کو اپنی تحریر میں محفوظ کرتے ہیں۔ ابتدائی دور میں پریم چند کے ناولوں میں اصلاحی اور اخلاقی عناصر غالب نظر آتے ہیں۔ مذہبی منافقت، تعلیم کی کمی، عورت کی گھریلو غلامی اور سماج میں رائج ظالمانہ رسوم اُن کے ابتدائی ناولوں میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ لیکن آگے چل کر اُن کی ناول نگا...
علم الانسان ما لم یعلم