بیسویں صدی کے اوائل میں جب ریڈیو ہندوستان میں متعارف ہوا تو کسی نے شاید یہ اندازہ نہ لگایا ہو کہ یہ آلہ صرف خبریں سنانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ زبان، ثقافت، شعری روایت اور ادبی روایت کے فروغ کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بن جائے گا۔ 1930–1927 کے درمیان آل انڈیا ریڈیو (جو شروع میں انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی کے نام سے جانا جاتا تھا) کے قیام نے ہندوستان میں ابلاغِ عامہ کی ایک نئی دنیا کھول دی۔ اس نئی دنیا میں سب سے نمایاں فائدہ یہ ہوا کہ اردو زبان پہلی بار پورے برِّصغیر میں ایک معیاری آواز اور ایک مربوط لہجے کے ساتھ گھروں تک پہنچی۔
۱۔ اردو ادب کے فروغ میں آل انڈیا ریڈیو کی مرکزیت
آل انڈیا ریڈیو نے ابتداء ہی سے اردو زبان کو نہ صرف سرکاری پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ اسے ایک معیاری،خوش لہجہ اور تہذیبی زبان کے طور پر پیش کیا۔ ریڈیو کے ذریعے اردو میں خبریں، فیچر، مکالمے، ڈرامے، مشاعرے، کہانیاں، مزاحیہ پروگرام، اور ڈھیر سارے ادبی مذاکرے نشر ہونے لگے۔ اس سے اردو زبان کی ترویج، اصلاحِ زبان اور معیاری تلفظ کو بے حد تقویت ملی۔
اردو شعر و ادب کے بڑے بڑے نام—جیسے فراق گورکھپوری، مجاز، فیض، سردار جعفری، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، پریم چند، عصمت چغتائی وغیرہ—ریڈیو کے مختلف پروگراموں سے وابستہ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈراموں، فیچرز اور مکالموں نے عوام میں اردو کے ذوق کو نہ صرف بلند کیا بلکہ اسے ایک جدید، زندہ اور روزمرہ کی زبان کے طور پر شناخت بھی دی۔
۲۔ ادبی ڈراموں اور ریڈیو فیچرز کا اثر
ریڈیو ڈرامہ، ہندوستانی ریڈیو کی سب سے کامیاب اصناف میں سے ایک ثابت ہوا۔ چونکہ ڈرامہ آواز پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے اداکاروں کے مکالمات، لہجے اور آواز کی اٹھان نے سننے والے کے دل میں زبان کے حسن کو اور گہرا کیا۔ ریڈیو کے ان ڈراموں نے اردو نثر کی روانی، مکالماتی طرزِ بیان، اور بیانیہ قوت کو عام لوگوں تک پہنچایا۔
اسی طرح ریڈیو فیچرز نے تاریخ، تہذیب، معاشرت، مذہب اور سماج سے متعلق موضوعات کو لطیف اور ادبی انداز میں عوام تک پہنچایا۔
۳۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کی نشر و اشاعت
ریڈیو نے باقاعدہ نشریاتی مشاعرے شروع کیے۔ یہ وہ دور تھا جب ہر بڑے شہر میں مشاعرے ہوتے تو تھے، مگر عوام تک وہ آواز نہیں پہنچ پاتی تھی۔ ریڈیو پر مشاعرہ سننا ایک ثقافتی فخر بن گیا۔
ریڈیو کے ذریعے میر، غالب، اقبال، جوش، فراق، فیض، جگر اور دیگر شعراء کی شاعری ایک نئے سامعین تک پہنچی۔ اس سے اردو شاعری کا دائرۂ اثر بڑھا، لسانی ذوق میں اضافہ ہوا۔لوگوں نے معیاری لہجے میں شعر پڑھنے اور سننے کے طور طریقے سیکھے
۴۔ زبان کی معیاری سازی اور تلفظ کی درستی
ریڈیو کے لیے ایک خاص ’’براڈکاسٹر اردو‘‘ اختیار کی گئی جو تلفظ، روانی اور لہجے کے اعتبار سے نہایت معیاری تھی۔ اس کے نتیجے میں صحیح اردو بولنے کا رواج بڑھا، غلط تلفظ کم ہوئے ، نئے بولنے والوں نے ایک سندی معیار کو اپنایا یہ اثر آج تک موجود ہے۔ اردو میں خبریں پڑھنے کا مخصوص انداز آج بھی زبان کی معیاری شکل سمجھا جاتا ہے۔
۵۔ ہندوستانی تناظر میں اردو کی بقا اور ریڈیو کا کردار
قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان میں اردو پر لسانی و سیاسی بحثیں چھڑ گئیں، مگر اس ماحول میں ریڈیو نے اردو کے لیے ایک نسبتاً محفوظ، ثقافتی اور غیر سیاسی جگہ فراہم کی۔
آل انڈیا ریڈیو کے اردو پروگرام، لسانی اور تہذیبی ، شناخت کو مضبوط کرنے ، اردو سامعین کو جوڑے رکھنے ، نوجوان نسل میں اردو کے شوق کو بیدار کرنے
میں مرکزی حیثیت رکھتے رہے۔
’’اردو سروس‘‘ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونِ ملک بھی اردو کے سامعین پیدا کیے۔ اس طرح ریڈیو ایک قومی رابطے کا ذریعہ بھی بنا۔
۶۔ جدید دور میں ریڈیو، ایف ایم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم
اگرچہ آج ٹی وی اور انٹرنیٹ نے میڈیا کی دنیا بدل دی ہے، مگر ریڈیو (ایف ایم، آن لائن ریڈیو، پوڈکاسٹ) اب بھی اردو کے فروغ میں موثر ہے۔ نئی نسل تک کہانیاں، غزلیں، انٹرویوز اور ادبی گفتگو اسی تواتر سے پہنچ رہی ہے۔
ریڈیو کے جدید پلیٹ فارم اردو کی موجودہ زندگی کو زندہ رکھتے ہیں اور ’’سننے کے ادب‘‘ کی روایت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
▪️نتیجہ
ہندوستان میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں ریڈیو، خصوصاً آل انڈیا ریڈیو کا کردار نہایت بنیادی، وسیع اور دیرپا ہے۔ ریڈیو نے اردو کو معیاری زبان کے طور پر پیش کیا، اس کی شاعری اور نثر کو گھروں تک پہنچایا، اس کے تلفظ اور لہجے کو نکھارا، اور ایک وسیع سامعین طبقہ پیدا کیا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ریڈیو نہ ہوتا تو اردو کے ادبی فروغ کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ ریڈیو نے اردو کے صوتی ورثے کو محفوظ کیا اور زبان کو عوامی، تہذیبی اور زندہ روایت کے طور پر قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں