نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اردو صحافت کے ضمن میں مراسلہ نگاری

اردو صحافت کے ارتقا اور فروغ میں مراسلہ نگاری نے نہایت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافت کا مقصد ہمیشہ سے صرف اطلاعات پہنچانا نہیں بلکہ معاشرے کی آواز کو فیصلہ ساز طبقات تک منتقل کرنا اور رائے عامہ کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں مراسلہ نگاری صحافت کا وہ ستون ہے جس نے عام شہری اور اداروں، حکومت اور عوام، اور مسائل اور ان کے حل کے درمیان رابطے کو مضبوط، مربوط اور ذمہ دارانہ انداز میں قائم رکھا۔ اردو صحافت کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخباری دنیا میں قارئین کے خطوط، شکایات، تجاویز، مشاہدات اور عوامی جذبات کو جگہ دینے کے لیے ’’مراسلہ نگاری‘‘ ایک باقاعدہ صنف کے طور پر پروان چڑھی اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئی۔ اردو صحافت کے ابتدائی دور میں اخبارات نے مراسلہ نگاری کے ذریعے عوام اور اداروں کے درمیان ایک فکری پل قائم کیا۔ اس زمانے میں جب رائے دہی اور اظہارِ خیال کے ذرائع محدود تھے، مراسلے ہی وہ واحد ذریعہ تھے جن کے ذریعے لوگ اپنی سوچ، مسائل اور تجربات اخبارات کو بھیجتے اور یوں صحافت عوامی احساسات کی توسیع بن جاتی۔ مراسلہ نگاری کے ذریعے حکومتوں کی بے اعتدا...

کالم نگاری کے اغراض و مقاصد

اخباری صحافت کی بے شمار اصناف میں کالم نگاری وہ صنف ہے جس نے سب سے زیادہ وسعتِ فکر، مشاہداتِ زندگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی کو اپنی آغوش میں سمیٹا ہے۔ کالم محض چند سو الفاظ کی تحریر نہیں بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی وہ فکری آواز ہے جو معاشرے کی بدلتی حرکیات، سیاسی و سماجی اتار چڑھاؤ اور انسانی قدروں کے زوال و ارتقا کو نہایت بیداری کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کالم جب صحافت سے مل کر تخلیق پاتا ہے تو وہ خیالات کا آئینہ بن کر سامنے آتا ہے—اور اس کے اندر مقصدیت، شعور اور قاری کی ذہنی تربیت کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی مقصد کالم نگاری کا رائے عامہ کی تشکیل ہے۔ ہر معاشرہ سیاسی تضادات، معاشی کشمکش اور سماجی مسائل سے گزرتا ہے۔ عوام ان مسائل کو محسوس تو کرتے ہیں مگر انہیں الفاظ دینے، تجزیاتی زاویہ فراہم کرنے، اور ان کے پس منظر کو منکشف کرنے کا کام کالم نگار سر انجام دیتا ہے۔ وہ واقعات کے تار و پود کو کھول کر سامنے رکھتا ہے، محرکات اور نتائج واضح کرتا ہے اور قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ رائے شعور کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ کالم نگاری کا دوسرا اہم مقصد اصل...

تقسیم ہند اور اردو افسانہ

برصغیر کی پوری تاریخ میں 1947ء کا بٹوارہ محض سیاسی یا جغرافیائی حادثہ نہیں بلکہ انسانی المیے کی انتہائی خوفناک داستان ہے۔ اس المناک واقعہ نے اردو افسانے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا—جہاں کرداروں کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، جلا وطنی، رشتوں کی بے معنویت، انسانی نفسیات کی تاریکی اور انسان کے اندر کے وحشی پن اور معصومیت فن کا مرکزی محور بن گئے۔ تقسیم کے فوراً بعد افسانہ نگاروں نے اس حادثۂ عظیم کو صرف بے رحم لہوچشم نظروں سے نہیں دیکھا بلکہ انسان کی تہہ در تہہ شکستگی اور نئے وجود کی تلاش کو بھی تخلیقی سطح پر برتا۔ یوں اردو افسانہ ایک ایسی حساس اور گہری روایت کی جانب بڑھا جس میں تاریخ کی خاکستر سے انسانی روح کی کراہ اور اس کی بقا کی خواہش جھلکتی ہے۔ سعادت حسن منٹو تقسیم کے المیے کے سب سے توانا اور بے رحم مؤرخ نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانے ’’ٹو باٹہ‘‘، ’’کھول دو‘‘، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘، ’’سیاہ حاشیے‘‘ اور ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں بٹوارے کی جنونی نفسیات، مذہبی تشدد، نسلی نفرت، عورت کی پامالی، اور انسان کے ذہنی انتشار کی ہولناک تصویریں ملتی ہیں۔ منٹو نے واقعات کو جذبات کی چادر میں لپیٹنے کے بجائے ننگی حقیقت کے ساتھ ...

پریم چند کی ناول نگاری

پریم چند کی ناول نگاری اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے ادبی افق پر ایک ایسی توانا اور موثر آواز ہے جس نے برِّصغیر کے سماج، اس کے اقتصادی ڈھانچے، مذہبی اور طبقاتی تقسیم، عورت کی حالت، کسان اور مزدور کی مجبوری، اور انسان کے باطنی اور بیرونی تضادات کو نہایت سادگی، صداقت اور فنّی پختگی کے ساتھ پیش کیا۔ وہ ان ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ناول کو محض قصہ گوئی نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی شعور، اصلاحِ معاشرہ اور انسانی ہمدردی کا آلہ بنایا۔ ’’بازارِ حسن (سوداسادن)‘‘، ’’نرملا‘‘، ’’رنگ بھومی‘‘، ’’گَبَن‘‘، ’’کرْم بھومی‘‘ اور ’’گودان‘‘ جیسے ناول نہ صرف ادبی اعتبار سے اہم ہیں بلکہ ہندوستانی سماج کی دستاویزی تاریخ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پریم چند کی ناول نگاری کا دائرہ صرف دیہات یا شہر تک محدود نہیں، بلکہ وہ پورے ہندوستانی معاشرے کی دھڑکن کو اپنی تحریر میں محفوظ کرتے ہیں۔ ابتدائی دور میں پریم چند کے ناولوں میں اصلاحی اور اخلاقی عناصر غالب نظر آتے ہیں۔ مذہبی منافقت، تعلیم کی کمی، عورت کی گھریلو غلامی اور سماج میں رائج ظالمانہ رسوم اُن کے ابتدائی ناولوں میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ لیکن آگے چل کر اُن کی ناول نگا...

پریم چند کی حالات زندگی

پریم چند کا شمار برِّصغیر کے اُن ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو فقط تفریح یا جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی زندگی کے مسائل، سماجی شعور، اخلاقی اقدیروں اور حقیقتِ حال کے بیان کی مضبوط بنیاد بنایا۔ اُن کا اصل نام دھنپت رائے تھا اور وہ 31 جولائی 1880 کو بنارس کے قریب لامہی نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ گھریلو ماحول روایتی ہندو پس منظر رکھتا تھا مگر بچپن ہی سے اُن کی طبیعت میں فکری سنجیدگی، مشاہداتی قوت اور عملی حقیقتوں کو سمجھنے کا رجحان پایا جاتا تھا۔ تعلیم کا آغاز مقامی مکتب سے ہوا اور آگے چل کر انہوں نے انگریزی اور فارسی زبان پر بھی دسترس حاصل کی۔ ابتدا میں وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے مگر مزاج میں آزادیِ فکر، خودداری اور انسانی مساوات کے احساس نے ہمیشہ انہیں ایک مخصوص ذہنی کشمکش میں مبتلا رکھا۔ پریم چند کی ازدواجی زندگی بھی اُن کی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوئی۔ پہلی شادی کم عمری میں خاندان کے دباؤ پر ہوئی مگر یہ رشتہ کامیاب نہ رہا۔ بعد میں انہوں نے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون، شوارانی دیوی سے شادی کی جس نے نہ صرف اُن کے ادبی سفر میں ذہنی مدد ...

ناول گودان — ایک مفصل مضمون

ہندی ادب کے عظیم افسانہ نگار پریم چند کا شاہکار ’’گودان‘‘ 1936 میں شائع ہوا اور اسے نہ صرف ہندی ناولوں کی تاریخ بلکہ برصغیر کے دیہی معاشرے کے مطالعے میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ’’گودان‘‘ محض ایک کہانی نہیں بلکہ کسان کی زندگی، اس کے دکھ، استحصال اور سماجی ناانصافیوں کا ایسا ادبی استعارہ ہے جو ایک پوری صدی کے انسانی، معاشی اور اخلاقی المیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں ہندوستان کی دیہی زندگی کا ایسا حقیقی نقشہ پیش کیا ہے جس میں غربت، طبقاتی تقسیم، جاگیردارانہ ظلم، مذہبی اور سماجی دھوکے، عورت کی بےبسی اور انسانی جذبات کی سچائی پورے حسن اور درد کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ’’ہوری‘‘ ایک سادہ، محنتی اور شرافت پسند کسان ہے جو زندگی بھر صرف ایک خواب لیے جیتا ہے — ایک گائے کا حصول۔ گائے کا حصول محض ایک جانور کا مل جانا نہیں بلکہ عزت، مذہبی وقار، سماجی حیثیت اور دیہاتی خوشحالی کی علامت ہے۔ لیکن حالات، بدعنوان معاشرتی ڈھانچے اور معاشی جبر ہوری کو کبھی اس خواب تک نہیں پہنچنے دیتے۔ زمین دار، پجاری، ساہوکار اور گاؤں کی سماجی پرتیں مل کر ایک ایسے نظام کی تشکیل کرتی ہیں...

حلقہ ارباب ذوق پر ایک مفصل نوٹ

حلقۂ اربابِ ذوق اردو ادب کی تاریخ میں ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے نہ صرف ادبی رویّوں کو نئی جہت عطا کی بلکہ تخلیق کے معنی اور مقصد کو بھی نئے انداز میں متعین کیا۔ اس حلقے کا آغاز 1939ء میں لاہور میں ہوا، اور ابتدا میں یہ صرف چند نوجوان شعرا و ادبا کی غیر رسمی بیٹھک تھی جو روایتی ادبی اقدار سے ہٹ کر مختلف ذوق، رجحانات اور جدید فکر کی جانب مائل تھے۔ اس دور میں ادب پر یا تو ترقی پسند تحریک کا رنگ غالب تھا یا پھر کلاسیکی و رومانوی رجحانات کا اثر قائم تھا۔ ایسے ماحول میں حلقۂ اربابِ ذوق ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا جس نے ادب کو کسی مخصوص نظریے، سیاسی وابستگی یا جماعتی فکر کے بجائے محض فن کی سطح پر پرکھنے اور برتنے کا تصور پیش کیا۔ یوں اس تحریک نے ”آرٹ فار لائف“ اور ”آرٹ فار آرٹ“ کی بحثوں کے درمیان ایک نیا راستہ نکالا جس میں فن کو اپنی داخلی معنویت، تخلیقی انفرادیت اور جمالیاتی اظہار کے ساتھ اہمیت دی گئی۔ ابتدائی دنوں میں حلقۂ اربابِ ذوق نے اس بات پر زور دیا کہ ادب نہ کسی جماعتی منشور کا پابند ہو اور نہ سماجی و معاشی مسائل کے اظہار تک محدود رکھا جائے۔ ادب کا دائرہ انسان کی داخلی نفسی...