ریڈیو بیسویں صدی کی ایک ایسی اہم ایجاد ہے جس نے دنیا میں ابلاغِ عامہ کے نظام کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس کی بنیاد ان سائنسی تجربات پر قائم ہوئی جو انیسویں صدی میں برقی لہروں اور تار کے بغیر پیغام رسانی کے سلسلے میں کیے گئے۔ سب سے پہلے جرمن سائنس داں Heinrich Hertz نے یہ ثابت کیا کہ برقی لہریں فضا میں سفر کر سکتی ہیں۔ بعد ازاں اطالوی سائنس داں Guglielmo Marconi نے ان تجربات کو عملی شکل دی اور 1895 میں پہلی بار کامیاب وائرلیس سگنل بھیجنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی وجہ سے مارکونی کو ریڈیو کا موجد کہا جاتا ہے۔
ابتدائی دور میں ریڈیو کا استعمال فوجی اور بحری رابطوں تک محدود تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس کی افادیت عام زندگی میں بھی محسوس کی جانے لگی۔ 1920 میں امریکہ کے شہر پٹسبرگ سے دنیا کی پہلی باقاعدہ ریڈیو نشریات شروع ہوئیں۔ اس کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک میں بھی ریڈیو اسٹیشن قائم ہونے لگے۔ جلد ہی ریڈیو خبروں، موسیقی، ڈراموں اور تعلیمی پروگراموں کا اہم ذریعہ بن گیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں ریڈیو نے عوامی بیداری اور اطلاعات کی ترسیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ حکومتیں ریڈیو کے ذریعے عوام تک خبریں، اعلانات اور جنگی حالات پہنچاتی تھیں۔ بعد کے زمانے میں ایف۔ایم ریڈیو، ٹرانزسٹر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ریڈیو کو مزید ترقی دی۔ آج بھی ریڈیو اپنی سادگی، کم خرچ ہونے اور وسیع رسائی کے سبب دنیا بھر میں مقبول ذریعۂ ابلاغ مانا جاتا ہے۔
ہندوستان میں ریڈیو کا آغاز و ارتقاء
ہندوستان میں ریڈیو کی تاریخ نہایت دلچسپ اور اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں ریڈیو نشریات کا آغاز 1923 میں بمبئی ریڈیو کلب سے ہوا، جہاں شوقیہ بنیادوں پر پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ بعد ازاں 1927 میں “Indian Broadcasting Company” قائم کی گئی جس نے بمبئی اور کلکتہ سے باقاعدہ نشریات شروع کیں۔ اگرچہ یہ ادارہ مالی مشکلات کا شکار ہو گیا، لیکن حکومت نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے اپنے زیرِ انتظام لے لیا۔
1930 میں ہندوستانی حکومت نے “Indian State Broadcasting Service” قائم کی، جسے 1936 میں باقاعدہ نام “All India Radio” دیا گیا۔ یہی ادارہ بعد میں ہندوستانی نشریاتی نظام کی بنیاد بنا۔ آزادی کے بعد آل انڈیا ریڈیو نے قومی یکجہتی، تعلیم، زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اردو، ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں میں خبریں، ڈرامے، موسیقی اور ادبی پروگرام نشر کیے جانے لگے۔
1957 میں آل انڈیا ریڈیو کو “آکاش وانی” کا نام دیا گیا، جس کا مطلب ہے “آسمانی آواز”۔ ریڈیو نے دیہی علاقوں تک معلومات پہنچانے، زرعی رہنمائی فراہم کرنے اور عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے دور میں ایف۔ایم چینلوں کی آمد نے ریڈیو کو نئی زندگی بخشی۔ آج ہندوستان میں سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر سینکڑوں ریڈیو چینل کام کر رہے ہیں اور ریڈیو اب بھی تفریح، معلومات اور تعلیم کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
ریڈیو نے دنیا میں ابلاغ اور معلومات رسانی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ عالمی سطح پر اس ایجاد نے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ہندوستان میں ریڈیو نے قومی یکجہتی، تعلیم اور ثقافت کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود ریڈیو آج بھی اپنی افادیت اور مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یہ عوام تک کم خرچ اور آسان طریقے سے معلومات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں