نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اُردو کے اہم ادیب، اُن کی مشہور کتابیں

اردو کے اہم شاعر اور ان کی شاعری کا مجموعہ 


میر تقی میر — کلیاتِ میر، دیوانِ میر
مرزا غالب — دیوانِ غالب، کلیاتِ غالب
علامہ اقبال — بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم
الطاف حسین حالی — مسدسِ حالی، دیوانِ حالی
فیض احمد فیض — نقشِ فریادی، دستِ صبا
فراق گورکھپوری — گلِ نغمہ، مشعل
جگر مراد آبادی — آتشِ گل، داغِ جگر
حسرت موہانی — کلیاتِ حسرت
احمد فراز — تنہا تنہا، جاناں جاناں
پروین شاکر — خوشبو، صد برگ
جون ایلیا — شاید، یعنی
ساحر لدھیانوی — تلخیاں، آؤ کہ کوئی خواب بنیں
کیفی اعظمی — آوارہ سجدے، آخرِ شب

اہم افسانہ نگار اور ان کے مشہور افسانے 

پریم چند — کفن، عیدگاہ، بڑے گھر کی بیٹی،پوس کی رات
سعادت حسن منٹو — ٹوبہ ٹیک سنگھ، ٹھنڈا گوشت، کھول دو
عصمت چغتائی — لحاف، چوتھی کا جوڑا، معصومہ
کرشن چندر — کالو بھنگی، جامن کا پیڑ، دو فرلانگ لمبی سڑک
راجندر سنگھ بیدی — لاجونتی، اپنے دکھ مجھے دے دو، گرم کوٹ
غلام عباس — آنندی، اوور کوٹ
قرۃ العین حیدر — پت جھڑ کی آواز، روشنی کی رفتار، ہاؤسنگ سوسائٹی


اردو کے اہم ناول نگار اور ان کی ناول 

ڈپٹی نذیر احمد — مراۃ العروس، توبۃ النصوح، ابن الوقت
رتن ناتھ سرشار — فسانۂ آزاد،
مرزا ہادی رسوا-- امراؤ جان ادا
پریم چند — گودان، بازارِ حسن، میدانِ عمل
قرۃ العین حیدر — آگ کا دریا، آخرِی شب کے ہمسفر
عبدالحلیم شرر — فردوسِ بریں، ملک العزیز ورجینا
انتظار حسین — بستی، آگے سمندر ہے
ابنِ صفی — جاسوسی دنیا، عمران سیریز
عبداللہ حسین — اداس نسلیں
قرۃ العین حیدر-- اگ کا دریا 
عصمت چغتائی__ ضدی، ٹیڑھی لکیر
راجندر سنگھ بیدی -- ایک چادر میلی سی 
کرشن چندر۔۔ شکست

دیگر اہم کتابیں 

محمد حسین آزاد — آبِ حیات، دربارِ اکبری
شبلی نعمانی — شعرالعجم، سیرۃ النبیؐ،المامون، الفاروق سوانح مولانا روم
مولانا ابوالکلام آزاد — غبارِ خاطر،رسالہ (الہلال، البلاغ)
فرحت اللہ بیگ — دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ
پطرس بخاری — پطرس کے مضامین
رشید احمد صدیقی — گنج ہائے گراں مایہ
ابنِ انشا — اُردو کی آخری کتاب، دنیا گول ہے
ممتاز مفتی — علی پور کا ایلی،
سعادت حسن منٹو — خاکہ (گنجے فرشتے،لاؤڈ سپیکر)



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...