اردو کی چند اہم صنعتیں وضاحت اور مثال کے ساتھ پیش ہیں۔
1. صنعتِ تشبیہ
کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دینا، بشرطیکہ دونوں میں کوئی صفت مشترک ہو۔
مثال:
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
(میر تقی میر)
2. صنعتِ استعارہ
کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں کے بجائے ادھار لیے گئے معنوں میں استعمال کرنا، گویا وہ چیز بعینہ وہی ہو۔
مثال:
پلکوں سے گر نہ جائیں یہ موتی سنبھال لو
دنیا کے پاس دیکھنے والی نظر کہاں
(یہاں آنسوؤں کے لیے 'موتی' کا استعارہ استعمال ہوا ہے)
3. صنعتِ تضاد
کلام میں ایسے دو الفاظ لانا جو ایک دوسرے کی ضد (Opposite) ہوں۔
مثال:
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
(یہاں 'دن' اور 'رات' میں تضاد ہے)
4. صنعتِ مبالغہ
کسی بات کو اس حد تک بڑھا چڑھا کر بیان کرنا کہ وہ بظاہر ناممکن یا غیر حقیقی معلوم ہو۔
مثال:
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
(میر انیس)
5. صنعتِ تلمیح
کلام میں کسی تاریخی، مذہبی یا افسانوی واقعے کی طرف اشارہ کرنا۔
مثال:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
(علامہ اقبال)
6. صنعتِ تجنیس
کلام میں دو ایسے الفاظ لانا جو لکھنے یا بولنے میں یکساں ہوں لیکن معنی مختلف ہوں۔
مثال:
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
(مرزا غالب - یہاں لفظ 'حق' دو مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے)
7. صنعتِ حسنِ تعلیل
کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو، مگر کلام میں خوبصورتی پیدا کرے۔
مثال:
پیاسی جو تھی سپاہِ خدا تین رات کی
ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی
(موجوں کا ساحل سے ٹکرانا ایک قدرتی عمل ہے، مگر شاعر نے اسے پیاس کی بے چینی قرار دیا ہے)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں