نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اُردو کے 50 مشہور محاورے

اُردو کے 50 مشہور محاورے — معنی و مطلب کے ساتھ

1. آسمان سر پر اٹھانا
معنی: بہت شور مچانا
مطلب: حد سے زیادہ ہنگامہ کرنا۔


2. آگ بگولا ہونا
معنی: سخت غصے میں آنا
مطلب: انتہائی ناراض ہوجانا۔


3. آستین کا سانپ
معنی: چھپا ہوا دشمن
مطلب: ایسا شخص جو دوستی کے پردے میں نقصان پہنچائے۔


4. آنکھوں کا تارا
معنی: بہت عزیز
مطلب: انتہائی محبوب شخص۔


5. آنکھ دکھانا
معنی: دھمکی دینا
مطلب: خوف زدہ کرنے کی کوشش کرنا۔


6. آنکھیں کھل جانا
معنی: حقیقت معلوم ہونا
مطلب: اصل صورت حال کا پتہ چلنا۔


7. اپنا الو سیدھا کرنا
معنی: ذاتی فائدہ اٹھانا
مطلب: صرف اپنے مطلب کی فکر کرنا۔


8. الٹی گنگا بہانا
معنی: خلافِ معمول کام کرنا
مطلب: عجیب یا غیر فطری حرکت کرنا۔


9. ایڑی چوٹی کا زور لگانا
معنی: پوری کوشش کرنا
مطلب: ہر ممکن کوشش کرنا۔


10. بال بال بچنا
معنی: بڑی مشکل سے بچنا
مطلب: خطرے سے معمولی فرق سے محفوظ رہنا۔


11. بغلیں جھانکنا
معنی: شرمندہ ہونا
مطلب: جواب نہ بن پڑنے پر گھبرا جانا۔


12. پاؤں پھول جانا
معنی: گھبرا جانا
مطلب: خوف یا پریشانی میں مبتلا ہونا۔


13. پانی پانی ہونا
معنی: سخت شرمندہ ہونا
مطلب: خجالت محسوس کرنا۔


14. پانی سر سے گزر جانا
معنی: حد سے بڑھ جانا
مطلب: معاملہ قابو سے باہر ہوجانا۔


15. پیٹ کا پانی نہ ہلنا
معنی: بے حس رہنا
مطلب: کسی بات کا اثر نہ ہونا۔


16. تین پانچ کرنا
معنی: بہانے بنانا
مطلب: ٹال مٹول کرنا۔


17. تِل کا تاڑ بنانا
معنی: چھوٹی بات کو بڑا کرنا
مطلب: معمولی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔


18. تلوے چاٹنا
معنی: خوشامد کرنا
مطلب: چاپلوسی کرنا۔


19. تلوار سر پر لٹکنا
معنی: خطرہ موجود ہونا
مطلب: ہر وقت اندیشہ رہنا۔


20. جان پر کھیلنا
معنی: خطرہ مول لینا
مطلب: اپنی جان کی پروا نہ کرنا۔


21. جان چھڑانا
معنی: پیچھا چھڑانا
مطلب: کسی مصیبت سے نجات حاصل کرنا۔


22. جی جلنا
معنی: حسد ہونا
مطلب: دوسرے کی کامیابی پر کڑھنا۔


23. چاند پر تھوکنا
معنی: بے فائدہ مخالفت کرنا
مطلب: عظیم شخصیت کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش۔


24. چہرہ اُتر جانا
معنی: پریشان ہوجانا
مطلب: غم یا خوف ظاہر ہونا۔


25. چھٹی کا دودھ یاد آنا
معنی: سخت تکلیف ہونا
مطلب: بہت مشکل میں پڑ جانا۔


26. خون پسینہ ایک کرنا
معنی: سخت محنت کرنا
مطلب: انتھک کوشش کرنا۔


27. خون کھولنا
معنی: غصہ آنا
مطلب: شدید غضب محسوس ہونا۔


28. داڑھی میں تنکا ہونا
معنی: قصوروار ہونا
مطلب: دل میں چور ہونا۔


29. دانت کھٹے کرنا
معنی: بری طرح شکست دینا
مطلب: مقابلے میں عاجز کردینا۔


30. دن رات ایک کرنا
معنی: مسلسل محنت کرنا
مطلب: آرام چھوڑ کر کام میں لگے رہنا۔


31. رائی کا پہاڑ بنانا
معنی: معمولی بات بڑھانا
مطلب: چھوٹی بات کو غیر ضروری اہمیت دینا۔


32. رنگ اُڑ جانا
معنی: خوفزدہ ہوجانا
مطلب: گھبراہٹ ظاہر ہونا۔


33. سانپ سونگھ جانا
معنی: خاموش ہوجانا
مطلب: اچانک بولتی بند ہوجانا۔


34. سر کھپانا
معنی: بہت سوچنا
مطلب: کسی مسئلے پر زیادہ غور کرنا۔


35. سر پر کفن باندھنا
معنی: جان قربان کرنے کو تیار ہونا
مطلب: ہر خطرہ مول لینے کا عزم کرنا۔


36. ہاتھ پیر پھول جانا
معنی: گھبرا جانا
مطلب: خوف سے بدحواس ہوجانا۔


37. ہاتھ ملنا
معنی: پچھتانا
مطلب: افسوس کرنا۔


38. ہوا میں قلعے بنانا
معنی: خیالی منصوبے بنانا
مطلب: غیر حقیقی سوچوں میں رہنا۔


39. کان بھرنا
معنی: بھڑکانا
مطلب: کسی کے خلاف اُکسانا۔


40. کان کھڑے ہونا
معنی: چونکنا
مطلب: شک یا حیرت پیدا ہونا۔


41. کمر ٹوٹ جانا
معنی: ہمت ختم ہوجانا
مطلب: شدید نقصان یا تھکن محسوس ہونا۔


42. کمر کسنا
معنی: تیار ہوجانا
مطلب: پوری تیاری کرلینا۔


43. کھسیانی بلی کھمبا نوچے
معنی: ناکامی پر غصہ نکالنا
مطلب: بے بسی میں الٹی سیدھی حرکت کرنا۔


44. کھونٹے سے باندھنا
معنی: پابند کردینا
مطلب: آزادی چھین لینا۔


45. گھوڑے بیچ کر سونا
معنی: بے فکر ہوکر سونا
مطلب: مکمل اطمینان سے آرام کرنا۔


46. منہ کی کھانا
معنی: شکست کھانا
مطلب: ناکام ہوجانا۔


47. منہ لٹکانا
معنی: اداس ہونا
مطلب: ناراضی یا غم ظاہر کرنا۔


48. ناک کٹنا
معنی: بے عزتی ہونا
مطلب: رسوائی اٹھانا۔


49. ناک میں دم کرنا
معنی: بہت تنگ کرنا
مطلب: مسلسل پریشان کرتے رہنا۔


50. ہاتھوں کے طوطے اُڑ جانا
معنی: سخت گھبرا جانا
مطلب: اچانک خوف زدہ ہوجانا۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...