نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یو جی سی نیٹ اُردو کے نصاب میں شامل ادیبوں کی تاریخِ پیدائش و وفات کی فہرست حصہ سوم

دوستوں ! اس بلاگ میں یونٹ نو میں شامل ادبی دبستان ، ادارے ، تحریکات اور رجحانات سے منسلک ادباء کی تاریخ پیدائش و وفات کی فہرست درج ذیل ہے۔


•جان گل کرسٹ (1759  1841) 
•شیر علی افسوس (1747   1809)
• شیخ امام بخش ناسخ (1772 فیض آباد) (1838 لکھنو) 
• شاہ حاتم (1699) (1783) 
• مرزا مظہر جان جاناں (1699) (1781) 
• سرسید احمد خان (1817 دہلی) (1898 علی گڑھ) 
• مولوی ذکا اللہ (1832) (1910) 
• جگن ناتھہ آزاد (1918 پاکستان) (2004 دہلی) 
• مرزا خلیل احمد بیگ (1945 گورکھپور) 
• قمر رئیس (1932) (2009 دعلی) 
• خواجہ میر درد (1721 دہلی) (1785 دہلی) 
• داغ دہلوی (1831 دہلی) (1905) 
• سید سلیمان ندوی (1884 نالندہ) (1953 اعظم گڑھ) 
• شوکت سبزواری (1908 میرٹھ) (1973 کراچی) 
• آختر شیرانی (1905 ٹونک) (1948 لاہور) 
• ڈاکٹر سہیل بخاری (1914) (1990) 
• معین احسن جذبی (1912 مبارکپور) (2005 علی گڑھ) 
• سردار جعفری (1913 بلرام پور) (2000 ممبئی) 
• مجاز لکھنوی (1911 بارہ بنکی) (1955 لکھنو) 
• جاں نثار اختر (1914 گوالیار) (1976 ممبئی) 
• سرور جہاں آبادی (1873 جہاں آباد) (1910) 
• کیفی اعظمی (1918 اعظم گڑھ) (2002 ممبئی) 
• احمد ندیم قاسمی (1916) (2006 لاہور) 
• جارج گریرسن (1851) (1941) 
• عالم ہیم چدر (1088) (1173) 
• سنیتی کمار چٹرجی (1890) (1977) 
• امیر خسرو (1253 پٹیالی) (1325 دہلی) 
• امام بخش صہبائی (1802) (1857) 
• مسعود حسین رضوی ادیب (1893 لکھنو) (1975) 
• جعفر زٹلی (1658 نرنول ہریانہ) (1713 دہلی) 
• فائز دہلوی (1690 دھلی) (1738 دہلی) 
• قلی قطب شاہ (1565 گولکنڈہ) (1612 حیدر آباد) 
• قاضی عبد الستار (1933 سیتاپور) (2018 دہلی) 
• افضل پانی پتی (1730) (1810) 
• علی عادل شاہ ثانی (1638 بیجاپور) (1674 بیجاپور) 
• اشرف بیابانی (1460) (1529) 
• شاہ امین الدین اعلی (1599 بیجاپور) (1675 بیجاپور) 
• میراں جی شمس العشاق (1407 فیض آباد) (1496 بیجاپور) 
• سراج اورنگ آبادی (1712 اورنگ آباد) (1764 اور نگ آباد) 
• خواجہ حیدر علی آتش (1764 دھلی) (1847 لکھنو) 
• مرزاشوق لکھنوی (1773 لکھنو) (1871) 
• نصرتی (1600) (1974 بیجاپور) 
• واجد علی شاہ (1822 لکھنو) (1887 کلکتہ) 
• عبد اللہ قطب شاہ (1614) (1672) 
• مصحفی (1747 اکبر پور) (1824 لکھنو) 
• خواجہ بندہ نواز گیسو دراز (1321 دہلی) (422 گلبرگه) 
• برہان الدین جانم (1554) (1599) 
• محمد مجیب (1902 لکھنو) (1985 دہلی) 
• نیاز فتح پوری (1884 اترپردیش) (1966 کراچی) 
• سجاد ظہیر (1905 لکھنو) (1973) 
• عزیز احمد (1914 عثمان آباد) (1978 ٹورنٹو) 
• خدیجہ مستور (1927 دہلی) (1982 لاہور) 
• علی عباس حسینی (1897 فازی پور) (1969) 
• غلام عباس (1909 امرتسر) (1982کراچی)
• حیات اللہ انصاری (1911 لکھنؤ) (1999) 
• غلام رسول مہر (1893 پنجاب) (1971 پاکستان) 
• رشید جہاں (1905 علی گڑھ) (1952 ماسکو) 
• محمد حسن عسکری (1919 میرٹھ) (1978 کراچی) 
• آبرو (1683) گوالیار) (1733) دہلی) 
• خان آرزو (1687) آگرہ) (1756 لکھنو) 
• مضمون (1734) (1770) 
• شاکر ناجی (1690) (1747) 
• محسن الملک (1837 اٹاوہ) (1907 شملہ) 
• بلونت سنگھ (1921 پنجاب) (1986) 
• قیوم نظر (1914 لاہور) (1989 لاہور) 
• خلیل الرحمن اعظمی (1927سلطانپور) (1978 اعظم گڑھ) 
• خلیق انجم (1935 دہلی) (2011 دہلی) 
• خواجہ حسن نظامی (1878 دہلی) (1955دہلی) 
• میر سوز (1721) (1798) 
• قائم چاند پوری (1722 بجنور) (1793 فیض آباد) 
• میر اثر (1735 دہلی) (1794 دہلی) 
• رنگین (1757 سرہند فتح گڑھ) (1835 لکھنو) 
• بہادرشاہ ظفر (1775 دہلی ) (1862 رنگون)
• شیفتہ (1809 دہلی ) (1869 دہلی) 
• ماسٹر رام چندر (1821 پانی پت ) (1880 دہلی) 
• محسن کاکوروی (1827 لکھنو) (1905 مینپوری)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...