نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یو جی سی نیٹ اُردو کے نصاب میں شامل ادیبوں کی تاریخِ پیدائش و وفات کی فہرست حصہ دوم

دوستوں ❗ اس بلاگ میں یونٹ سات اور اٹھ میں موجود تمام ادیبوں کی تاریخ/جائے پیدائش اور وفات کی فہرست دی گئی ہے۔

• محمد بن سلام العجمی (750 بصرہ)(845 بغداد)
• قدامہ ابن جعفر (873 بغداد) (948) 
• افلاطون (427/449 ق م) (347 ق م) 
• ابن خلدون (732 تونیس) (808 مصر) 
• ابن قتیبہ (828 کوفہ) (889 بغداد) 
• ابن رشیق (1000) (1064) 
• عبد القاہر جرجانی (1009 جرجان) (1078 جرجان) 
• امیر کیکاوس (1021) (1087) 
• عروضی سمرقندی (1110) (1161) 
• آئی اے رچرڈس (1893) (1979 کیمبرج) 
• میتھیو آرنلڈ (1822) (1888) 
• ٹی ایس ایلیٹ (1888) (1965) 
• امداد امام اثر (1849 پٹنہ) (1934) 
• شبلی نعمانی (1857 اعظم گڑھ) (1914 اعظم گڑھ) 
• احتشام حسین (1912 جون پور) (1972 آلہ آباد) 
• کلیم الدین احمد (1908 پٹنہ) (1983 پٹنہ) 
• آل احمد سرور (1911 بدایوں) (2002 علی گڑھ) 
• شمس الرحمن فاروقی (1935 پرتابگڑھ) (2020 الہ آباد) 
• گوپی چند نارنگ (1931 بلوچستان) (2022 امریکہ) 
• شکیل الرحمن (1931 موتہاری) (2016 دہلی) 
• وزیر آغا (1922 پنجاب) (2010 لاہور) 
• مجنوں گورکھپوری (1904 گورکھپور) (1988 کراچی) 
• شبیہ الحسن (1958 لاہور) (2012) 
• محی الدین قادری زور (1905 حیدر آباد) (1962 کشمیر) 
• قاضی عبد الودور (1896 جہاں آباد ) (1984 پٹنہ) 
• مولوی عبدالحق (1970 میرٹھ) (1961 کراچی) 
• امتیاز علی عرشی (1904 رام پور (1981 رام پور) 
• رشید حسن خان (1925 - 2006 شاہ جہاں پور) 
• گیان چند جین (1923بجنور ) (2007 امریکہ ) 
• جمیل جالبی (1929 علی گڑھ ) (2019 کراچی) 
• مالک رام (1906 پھالیہ ) (1993 دہلی) 
• مختار الدین احمد (1924 پٹنہ) (2010 علی گڑھ) 
• محمود شیرانی (1880) (1946/1947) 
• نصیر الدین ہاشمی(1895 حیدر آباد)(1964 حیدر آباد ) 
• مسعود حسین خان (1919 فرخ آباد ) ( 2010 علی گڑھ) 
• مولانا ابو الکلام آزاد (1888 مکہ ) (1958 دہلی) 
• سجاد حیدر یلدرم (1880 بجنور) (1943 لکھنو) 
• کنہیالال کپور (1910 لایل پور) (1980) 
• رشید احمد صدیقی (1896 جونپور ) (1977 علی گڑھ ) 
• پطرس بخاری (1898 پشاور) (1958 نیویارک) 
• احمد جمال پاشا (1929 الہ آباد) (1987 پٹنہ) 
• مشتاق احمد یوسفی (1923 راجستحان) (2018 کراچی) 
• فرحت اللہ بیگ ( 1883 دہلی ) (1947 حیدر آباد) 
• ابن انشا (1927 جالندھر) (1978 لندن) 
• مجتبی حسین (1936 گلبرگہ ) (2020 حیدر آباد) 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...