نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یو جی سی نیٹ اُردو کے نصاب میں شامل ادیبوں کی تاریخِ پیدائش و وفات کی فہرست حصہ اوّل

دوستوں! اس بلاگ میں یو جی سي نیٹ اُردو کے نصاب میں شامل غزل گو، نظم گو شعراء، ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں کی تاریخِ/جائے پیدائش اور وفات لکھا گیا ہے۔ 

دوسرا یونٹ۔                       Unit 2
• مرزا محمد رفیع سودا (1712 دہلی-1781 لکھنو) 
• شیخ ابراہیم ذوق (1789 دہلی)(1854 دہلی) 
• ملا وجہی (1566 گولکنڈہ)(1659 حیدرآباد)
• میر حسن (1737 دہلی)(1786 لکھنو) 
• پنڈت دیا شنکر نسیم (1811 لکھنو)(1845 لکھنو) 
• میر انیس (1802 فیض آباد)(1874 لکھنو) 
• مرزا دبیر (1803 دہلی)( 1875 لکھنو) 
• جمیل مظہری (1905مظفرپور)(1980 مظفر پور)

تیسرا یونٹ۔                            Unit 3
• ولی دکنی (1668 اورنگ آباد)(1720 احمد آباد) 
• میر تقی میر (1722 آگرہ)( 1810 لکھنو) 
• مرزا غالب (1797 آگرہ)(1869 دہلی) 
• مومن خان مومن (1800 دہلی)(1852 دہلی) 
• شاد عظیم آبادی (1846 عظیم آباد)(1927 پٹنہ)
• فانی بدایونی (1879 بدایوں)(1941 حیدر آباد)
• اصغر گونڈوی (1884 گورکھپور)(1936 الہ آباد) 
• حسرت موہانی (1875 موہان)(1951 لکھنو) 
• جگر مراد آبادی (1890 مراد آباد)(1960 گونڈا)
• یگانہ یاس چنگیزی (1884 پٹنہ)(1956 لکھنو)
• فراق گورکھپوری (1896 گورکھپور)(1982 دہلی) 
• مجروح سلطانپوری(1919 اعظمگڑھ)(2000 ممبئی)
• کلیم عاجز (1926 پٹنہ)(2015 جھارکھنڈ)
• شہر یار (1936 بریلی) (2012 علی گڑھ)
• عرفان صدیقی (1939 بدایوں) (2004) لکھنو 

چوتھا یونٹ۔                       Unit 4
• نظیر اکبر آبادی (1740 دہلی)(1830 آگرہ)
• محمد حسین آزاد (1830 دہلی ) (1910 لاہور) 
• الطاف حسین حالی(1837پانیپت 1914 پانی پت) 
• اسمعیل میرٹھی (1844 میرٹھ-1917 میرٹھ) 
• اکبر الہ آبادی (1846 آلہ آباد-1921 آلہ آبان)
• برج نرائن چکبست (1882 فیض آباد- 1926رائے بریلی) 
• علامہ اقبال (1877) سیالکوٹ - 1938 لاہور) 
• جوش ملیحآبادی (1896 ملیح آباد-1982اسلام آباد)
• میراجی (1912- 1949 ممبئی)
• فیض احمد فیض (1911 سیالکوٹ - 1984 لاہور) 
• اختر الایمان (1915 بجنور-1996 ممبئی)
• مخدوم محی الدین (1908 حیدر آباد-1969 دہلی)
• ن م راشد (1910 پنجاب- 1975 لندن) 
• ساحر لدھیانوی (1921 لدھیانہ-1980ممبئی) 
• شفیق فاطمہ شعری (1930 ناگپور-2012حیدر آباد) 

پانچواں یونٹ۔                     Unit 5
• انشا اللہ خان (1752 مر شدآباد-1817 لکھنو) 
• میرامن دہلوی (1732 دہلی ) (1808) کلکتہ) 
• رجب علی بیگ سرور (1786 لکھنو-1869 بنارس) 
• امانت لکھنوی (1815 لکھنو-1858 لکھنو) 
• آغا حشر کاشمیری ( 1879 بنارس-1935 لاہور ) 
• امتیاز علی تاج (1900 لاہور-1970 لاہور)
• حبیب تنویر (1923 رائے پور) (2009 بھوپال) 
• محمد حسن (1926 مراد آباد) (2010 دہلی) 

چھٹا یونٹ۔                              Unit 6
• پنڈت رتن ناتھ سرشار (1846 لکھنو-1902حیدر آباد) 
• ڈپٹی نذیر احمد (1830 بجنور) (1913 دہلی) 
• عبد الحلیم شرر (1860 لکھنو) (1926 لکھنو) 
• مرزا ہادی رسوا (1858 لکھنو) (1931 حیدر آباد) 
• پریم چند (1880 بنارس) (1936 بنارس) 
• عصمت چغتائی (1915 بدایوں) (1991 ممبئی) 
• راجندر سنگھ بیدی (1915 لاہور) (1984 ممبئی) 
• قره العین حیدر (1927 علی گڑھ) (2007 دہلی) 
• شوکت صدیقی (1923 لکھنو) (2006 کراچی) 
• عبد الله حسین (1931 پاکستان) (2015 لاہور) 
• انتظار حسین (1923 بلند شہر) (2016 لاہور) 
• الیاس احمد گدی (1934) (1997) 
• سعادت حسن منٹو (1912 پنجاب) (1955 لاہور) 
• کرشن چندر (1914 پنجاب) (1977 ممبئی) 
• خواجہ احمد عباس (1914 پانی پت) (1987 ممبئی) 
• سہیل عظیم آبادی (1911 پٹنہ) (1979 الہ آباد) 
• جیلانی بانو (1936 بدایوں) 
• سریندر پرکاش (1930 پنجاب) (2002 ممبئی) 
• غیاث احمد گدی (1928 دھنباد) (1986) 
• اقبال مجید (1934 مراد آباد) (2019 بھوپال) 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

منٹو کے فسانوں پر تقسیم ہند کے اثرات

اردو افسانے کی تاریخ میں اگر کوئی نام انسانی المیے کی سب سے بے باک، بے رحم اور سچی تصویر کشی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے تو وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ منٹو نے تقسیمِ ہند جیسے عظیم سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسان کی روح، اس کی شناخت، اس کی اخلاقیات اور اس کے باطن میں برپا ہونے والے طوفان کے طور پر محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے تقسیم کے محض بیانیے نہیں بلکہ انسانی کرب کی زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند، جو 1947 میں وقوع پذیر ہوئی، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، خاندانوں کو توڑ دیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا۔ اس سانحے نے مذہب، قومیت اور شناخت کے تصورات کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا۔ منٹو نے اس المیے کو کسی نظریاتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ یہ تھا کہ اس تقسیم نے انسان کو کس حد تک غیر انسانی بنا دیا ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ تقسیم کے اثرات کی سب سے گہری اور علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس افسانے میں...

اُردو کے 100 اہم مشکل متضاد الفاظ کی جوڑیاں

1. عروج — زوال 2. آغاز — انجام 3. ظاہر — باطن 4. وصل — فراق 5. حیات — ممات 6. سکون — اضطراب 7. عدل — ظلم 8. نور — ظلمت 9. امید — یاس 10. صداقت — کذب 11. جرات — بزدلی 12. محبت — نفرت 13. وفا — جفا 14. تعمیر — تخریب 15. کامیابی — ناکامی 16. عزت — ذلت 17. راحت — تکلیف 18. آسان — دشوار 19. علم — جہالت 20. عقل — حماقت 21. خوشی — غم 22. امیری — غریبی 23. بلندی — پستی 24. تازگی — فرسودگی 25. آزادی — غلامی 26. دوستی — دشمنی 27. اتحاد — انتشار 28. قرب — بُعد 29. ظاہر — مخفی 30. انصاف — ناانصافی 31. حلال — حرام 32. سچ — جھوٹ 33. نرم — سخت 34. گرم — سرد 35. زندہ — مردہ 36. روشنی — اندھیرا 37. صبح — شام 38. دن — رات 39. اندر — باہر 40. اوپر — نیچے 41. نفع — نقصان 42. جلدی — تاخیر 43. خاموشی — شور 44. پاک — ناپاک 45. بہادر — بزدل 46. قریب — دور 47. وفادار — غدار 48. دانا — نادان 49. شریف — بدماش 50. مہذب — غیرمہذب 51. صبر — بے صبری 52. محبت — عداوت 53. ترقی — تنزلی 54. قبول — رد 55. زندگی — موت 56. خوشبو — بدبو 57. روشن — تاریک 58. محنت — سستی 59. صحت — بیماری 60. طاقت — کمزوری 61. حقیقی — فرضی 62....

میر امن کی تصنیف: باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ

میر امن دہلوی کی شاہکار تصنیف "باغ و بہار" اردو ادب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی یا داستان نہیں ہے، بلکہ اسے جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ اور ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی پائیدار مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مقبول اور شوق سے پڑھی جاتی ہے جتنی کہ تقریباً 200 برس پہلے تھی ۔ اس غیر معمولی پذیرائی کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے ۔ یہ بلاگ "باغ و بہار" کا ایک گہرا اور علمی تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں اس کی لسانی، سماجی اور ادبی اہمیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس کتاب کی خوبیوں اور ممکنہ خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے گا، اور اردو ادب میں اس کے پائیدار ورثے کا تعین کرے گا۔ آئیے! اب تفصیل سے باغ و بہار کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ 🔹 میر امن کی سوانح حیات اور علمی خدمات میر امن دہلوی کی ولادت 1748ء میں دہلی میں ہوئی ۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے تھا جو کئی پشتوں سے مغل دربار سے وابستہ تھا، اور اسی پس...